کراچی میں بے لگام ڈاکؤوں نے 5 برس کے دوران سیکڑوں خاندان اجاڑدئیے۔۔۔لگ
بھگ ڈھائی ہزار افراد 5سال میں لٹیروں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔۔۔سال دوہزار اکیس
میں اسٹریٹ کرمنلز کی گولیوں کا شکار افراد کی شرح گزشتہ چار سال سے تجاوز کر گئی۔
بائیکیا رائیڈر
کا بھائی روتے ہوئے
روتا بلکتا یہ
شخص ۔۔۔بھائی ہے اس نوجوان عمران کا جسے چند ہزار روپے کے موبائل فون کی خاطر کراچی
میں ڈاکؤوں نے قتل کیا۔۔۔
کہیں موبائل فون کی خاطر عمران اوراس جیسے کئی نوجوانوں کی جان گئی تو کہیں لٹیروں
سے موٹرسائیکل بچانے کے دوران عزیر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا
اعدادو شمار
بتاتے ہیں کہ روز بہ روز نڈر ہوجانے والے اسٹریٹ کرمنلز رواں سال اب تک کراچی میں 63افراد کو قتل اور 548 کو زخمی
کرچکے ہیں۔۔۔سال 2020 میں ڈاکؤوں نے 51افراد کی جان لی تھی اور 460کو زخمی کیا تھا
دوران لوٹ
مار سال 2019 میں 39افراد ہلاک اور 385 زخمی ہوئے تھے جبکہ دوہزار اٹھارہ میں ڈکیتی
مزاحمت پر قتل کے50 اور زخمی ہونے کے 372واقعات سامنے آئے تھے۔ سال دوہزار سترہ میں
بھی کراچی کی سڑکوں پر ڈاکؤوں نے 47افراد کی جان لی تھی جبکہ 399 کو زخمی کردیا
تھا۔