سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت نے 2008-09 میں بے روزگار نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ایک جامع تربیتی پروگرام کا آغاز کیا، جسے بینظیر بھٹو شہید یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام کا نام دیا گیا۔ بعد ازاں اس پروگرام کو سندھ اسمبلی کے ایکٹ 2013 کے تحت قائم کردہ بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسورس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے سپرد کر دیا گیا، جو نوجوانوں کی فنی و پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔
یہ پروگرام پاکستان میں نوجوانوں کی فنی تربیت کے حوالے سے اپنی نوعیت کا منفرد منصوبہ ہے، جس کا بنیادی مقصد سندھ کے بے روزگار نوجوانوں کو تکنیکی، پیشہ ورانہ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کی مفت تربیت فراہم کرکے انہیں باعزت روزگار کے قابل بنانا ہے۔ پاکستان لیبر فورس سروے کے مطابق سندھ میں تقریباً 15 لاکھ بے روزگار نوجوان موجود ہیں، جنہیں فنی تربیت فراہم کرکے ملکی معیشت کا فعال حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسی وژن کے تحت بورڈ اب تک 5 لاکھ 40 ہزار سے زائد نوجوانوں کو مختلف ٹریڈز اور کورسز میں تربیت فراہم کر چکا ہے۔
بورڈ کے تحت 4 سے 6 ماہ کے مختصر کورسز، ایک سے 6 ماہ کے ہنر پر مبنی تکنیکی پروگرامز، اور ایک سے 4 سالہ طویل المدتی تربیتی پروگرامز سندھ کے مختلف کالجوں، یونیورسٹیوں اور معروف نجی اداروں میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔ ان کورسز میں آئی ٹی، ٹیکنیکل اسکلز، صحت، آٹوموبائل، انڈسٹری، ایئر لائن، گارمنٹس اور دیگر شعبے شامل ہیں۔ تربیت کے دوران شرکاء کو ماہانہ وظیفہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
یہ پروگرام سندھ کے تمام 30 اضلاع میں مرد و خواتین کو یکساں تربیتی مواقع فراہم کر رہا ہے۔ 2008 سے 2026 تک 7 لاکھ 63 ہزار 329 نوجوان رجسٹرڈ ہوئے، جن میں سے 5 لاکھ 40 ہزار 750 نوجوانوں نے تربیت حاصل کی، جبکہ 4 لاکھ 22 ہزار 701 نے کامیابی سے تربیت مکمل کی۔ ان میں سے تقریباً 1 لاکھ 72 ہزار نوجوان روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، جو 41 فیصد بنتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مرد تربیت یافتگان کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار 976 (55 فیصد) جبکہ خواتین کی تعداد 2 لاکھ 42 ہزار 728 (45 فیصد) ہے۔ اسی طرح 29 فیصد تربیت یافتگان شہری جبکہ 71 فیصد دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں، جو اس پروگرام کی صوبہ گیر رسائی کو ظاہر کرتا ہے۔
بورڈ نے نجی شعبے کے 1634 اور سرکاری شعبے کے 14 اداروں کے اشتراک سے 28 تربیتی سیشنز اور 414 مختلف ٹریڈز میں تربیت فراہم کی ہے۔ اس کے علاوہ ورلڈ بینک اور یونیسیف جیسی بین الاقوامی تنظیموں کے تعاون سے 1 لاکھ 14 ہزار 732 نوجوانوں کو تربیت دی گئی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 5 ہزار سے زائد افراد بھی مستفید ہوئے۔
خصوصی طور پر قیدیوں، خصوصی افراد، خواجہ سراؤں اور دیگر پسماندہ طبقات کو بھی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ تربیت مکمل کرنے والے گریجویٹس کو سافٹ لونز اور گرانٹس دینے، صنعتوں کے ساتھ روابط بڑھانے، اور سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (STEVETA) کے ساتھ قریبی ہم آہنگی قائم کرنے جیسے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
مزید برآں، تربیت یافتہ گریجویٹس کا ایک جامع ڈیٹا بینک بھی تشکیل دیا جا رہا ہے، تاکہ انہیں بورڈ کی ویب سائٹ کے ذریعے زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
بورڈ نے معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے ڈپارٹمنٹ آف امپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلٹیز (DEPD) کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے ہیں، جو جامع ترقی کے حکومتی عزم کا مظہر ہے۔
بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسورس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ سندھ میں نوجوانوں کو ہنر مند بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور انسانی وسائل کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ اگر اس ادارے کو مناسب مالی وسائل اور حکومتی سرپرستی میسر رہے تو یہ نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک مثالی ماڈل بن سکتا ہے۔
پیشہ ورانہ پروفائل: اسحاق سومرو
اسحاق سومرو ایک نہایت تجربہ کار پیشہ ور ہیں جو صحافت، ریسرچ ایسوسی ایٹ اور کالم نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کا نمایاں کیریئر 15 برسوں پر محیط ہے۔ وہ کثیر لسانی ابلاغ اور تجزیے میں وسیع مہارت رکھتے ہیں اور سندھی، اردو اور انگریزی تین بڑی زبانوں میں تحریر و شراکت کا تجربہ رکھتے ہیں
ishaksoomro@yahoo.com