آج حیدرآباد کی عدالت میں ماریہ ساریو کیس کی سماعت ہوئی، جہاں پولیس نے ملزمہ اور گرفتار خواجہ سراؤں کے خلاف مزید ریمانڈ کی درخواست دی۔ تاہم وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر میں شامل تمام دفعات قابلِ ضمانت ہیں۔ عدالت نے سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔
ماریہ ساریو، جو ایک جونیئر کلرک ہیں، کو غیر قانونی طور پر ہیومن رائٹس سیل کی انچارج اور ایس ایس پی آفس میں انسپکٹر کی سطح پر تعینات کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے لیڈی اے ایس آئی عائشہ کو دفتر بلا کر تشدد کا نشانہ بنایا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ اور دیگر افراد نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ بدسلوکی کی، اس لیے مزید ریمانڈ ضروری ہے تاکہ تفتیش مکمل ہو سکے۔ وکلاء نے کہا کہ دفعات معمولی اور قابلِ ضمانت ہیں، لہٰذا ملزمان کو فوری ضمانت پر رہا کیا جائے۔
دوسری جانب خواجہ سراؤں نے حیدرآباد میں احتجاج کیا اور ماریہ ساریو کی بحالی کا مطالبہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی تعصب پر مبنی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان نے اس کیس کو پولیس کے اندرونی نظام اور طاقت کے غلط استعمال کی مثال قرار دیا۔