کبھی کبھی ہار مان لینا نہیں، بلکہ چلتے رہنا سب سے بڑی بہادری ہوتی ہے۔

عمران عمران

کبھی کبھی ہار مان لینا نہیں، بلکہ چلتے رہنا سب سے بڑی بہادری ہوتی ہے۔

کبھی کبھی ہار مان لینا نہیں، بلکہ چلتے رہنا سب سے بڑی بہادری ہوتی ہے۔


سحر جب ظلمتوں کے طویل و تاریک صحرا کو کاٹ کر نمودار ہوتی ہے، تو محض سورج نہیں نکلتا—بلکہ کائنات کی سانسوں میں ایک نیا جیون دوڑ جاتا ہے۔

آج بھارت کی فضاؤں میں چھائی وہ سائیں سائیں کرتی گھٹن، وہ خوف کی زہریلی خاموشی بالآخر ٹوٹ گئی۔ آج ایک ایسی تازہ، معطر ہوا کا جھونکا چلا ہے جس نے صدیوں کے غبار کو دھو ڈالا۔ مگر یہ ہوا یونہی مفت میں نہیں ملی... یہ ہوا ان آبلہ پا مسافروں کی قربانیوں کی مرہونِ منت ہے، جنہوں نے سڑکوں کے تپتے ہوئے اسفالٹ پر اپنے جسموں کو لاٹھیوں کے سامنے ڈھال بنا دیا۔ یہ ہوا ان نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کی اس پاکیزہ غیرت کا ثمر ہے، جن کی عزت و وقار سے کھیلنے کی ناکام کوششیں کی گئیں، مگر ان کے جذبے کا شیشہ ٹوٹنے سے انکار کرتا رہا۔

سچ پوچھئے تو... آج حقیقی معنوں میں بھارت آزاد ہوا ہے۔

ایک ایسی آزادی، جس پر ذات پات کا کوئی داغ ہے، نہ علاقے کی حد بندی، نہ زبان کا تعصب۔ آج کا ہند و پاک کی حدوں سے پرے، انسانیت کی اس بلندی پر جا کھڑا ہوا ہے جہاں صرف روشنی کا راج ہے۔ وہ نوجوان، جو کل تک الگ الگ بستیوں کے باسی تھے، ایک ایسے شفاف تعلیمی نظام کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے یکجاں ہو گئے جس کی خاطر انہوں نے 20 دن تک بھوک اور پیاس کے زہر کو حیات بخش پیالے کی طرح پی لیا۔ بیس دن کی اس طویل، روح فرسا ہڑتال نے ان کے جسموں کو تو گلا دیا، ان کی صحت کی رنگت تو چرالی، مگر ان کی روحوں کو اتنا شفاف کر دیا کہ آج ان میں سچائی کا عکس صاف نظر آتا ہے۔

فلسفہ یہی تو ہے... کہ زندگی صرف سانس لینے اور اپنے وجود کی شمع کو جلائے رکھنے کا نام نہیں ہے۔ اپنے لیے تو اس زمین پر حشرات بھی جی لیتے ہیں۔ اصل زندگی تو وہ ہے جو کسی عالی شان مقصد کے حضور وقف کر دی جائے۔ کسی اور کے لبوں پر مسکراہٹ لانے کے لیے اپنی راتوں کی نیندیں قربان کر دینا ہی آدمیت کی معراج ہے۔

انقلاب کی وہ سرگم: جہاں صداقت کے استعارے تخلیق ہوئے

اس پوری داستانِ عزیمت میں کچھ نام ایسے ہیں جو محض انسانوں کے نہیں، بلکہ حریت کے استعارے بن چکے ہیں۔

جب نیہا بورا کے صبر کی انتہا نے نظام کے ایوانوں کو جھلایا، تو لگا جیسے شمعِ حق کا لو تیز ہو گیا ہو۔ ابھیجیت کی پروقار اور اٹل قیادت اس طوفان میں اس محکم چٹان کی مانند رہی جس سے ٹکرا کر ظلم کی ہر لہر پاش پاش ہو گئی۔ اور ان سب کے درمیان... شرانیا ورما

!

آہ، شرانیا  اور اس کی وہ ڈفلی!

جب وہ ڈفلی پر اپنی انگلیاں مارتی تھی، تو وہ محض ایک ساز کی آواز نہیں ہوتی تھی، بلکہ یوں لگتا تھا جیسے صدیوں سے دبے ہوئے جذبات کی دھڑکنیں تجسیم پا گئی ہوں۔ Thump... Thump... Thump... اس کی ڈفلی کی ہر تھپک پر جب "انقلاب" کا نغمہ اس کے لبوں سے جاری ہوتا، تو بھوکے، پیاسے، تھکے ماندے طلباء کے مردہ وجود میں ایک برقی لہر دوڑ جاتی۔ اس کا گایا ہوا انقلاب کوئی نعرہ نہیں تھا، وہ ایک ایسی مدھر، رومانوی نظم تھی جو ظلم کی بنیادوں کو ہلا دینے کا حوصلہ رکھتی تھی۔

یہ فتح محض ایک ہڑتال کا اختتام نہیں، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب شبِ تاریک کے خلاف نوجوان نسل کا خون اور قلم ایک ہو جائیں، تو سحر کو ہر حال میں طلوع ہونا پڑتا ہے۔

آج کا دن ان تمام گم نام اور نام ور مجاہدوں کے نام ہے، جنہوں نے ہمیں سکھایا کہ: "جینا وہی ہے جو کسی روشنی کی تلاش میں خود کو چراغ بنا دے۔"