کراچی،عرفان علی
ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں حکومتی ایمبولینسز کی تعداد نا ہونے کے برابر ہے۔ان حالات میں فلاحی ادارے عوام کی سہولت کے لئے سرگرم ہیں ،،لیکن بعض نجی ایمولنس سروسز اپنی خدمات کا بھاری معاوضہ وصول کررہی ہیں۔
بڑا شہر۔ بڑی آبادی لیکن
حکومتی ریسکیو سروس نا ہونے کے برابر۔
ہنگامہ آرائی اور پرتشدد واقعات کے
دوران ایدھی اور چھیپا نے شہریوں کو ریسکیو
کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔
سندھ حکومت نے کچھ عرصہ
قبل امن ایمبولنس سروس سے ایک معاہدہ کیا۔ اب سندھ ریسکیو اینڈ
میڈیکل سروسز کے نام سے عوام کو جدید ایمبولنس سروس فراہم کی جارہی ہے۔
شہریوں کو بعض اوقات نجی ایمبولنس
سروسز کی خدمات لینا پڑتی ہے۔۔ جومریض کی منتقلی کے 3 سے 4
ہزار روپے جبکہ شہر سے باہر کے 40 روپے
فی کلومیٹر چارج کرتے ہیں۔
انکا دعوی ہے کہ کمرشل ایمبولینس میں آکسیجن سلینڈ موجود ہوتا ہے تاہم دیگر
طبی سہولت موجود نہیں ہوتی
کراچی کے تمام بڑے
اسپتالوں کے سامنے مختلف ناموں سے کام کرنے والی ان پرائیوٹ ایمبولنس سروسز
کے بوتھس قائم ہیں۔ ترجمان ایدھی
سروس کا کہنا ہے کہ انہیں ایمبولینسز
کے لئے یومیہ 12 سو کے قریب کال
موصول ہوتی ہیں اور اگر ایمبولنس دستیاب
نہ ہو۔۔ تو شہری ایسے موقع پرست اداروں کی مدد لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔
زیادہ تر لوگ ہمارے پاس
آتے ہیں لیکن پورا نہیں کرتے اس لیے پھر
پرائیوٹ ایمبولنس کی
فلاحی ادارے ایدھی
اور چھیپا مریض کی اسپتال سے گھر منتقلی
کے 300 سے 500 روپے تک چارج کرتے ہیں۔جبکہ کسی حادثے کی صورت میں مفت سروس فراہم کی
جاتی ہے۔ایسے مواقع پر نجی ایمبولنسز
سروسزنظر نہیں آتیں۔
جناح ، سول اور عباسی
شہید اسپتالوں سمیت دیگر بڑے اسپتالوں کے باہر مختلف پرائیویٹ ایمبولنس
سروسز کی گاڑیاں 24 گھنٹے موجود رہتی ہیں جن میں غیر تربیت یافتہ عملہ بھاری قیمت وصول کر
مریضوں کی منتقلی کا کام انجام دیتا ہے۔