کراچی،عدنان اطہر
کراچی میں بے لگام ڈاکووں
نے ایک اور خاندان اجاڑ دیا۔کورنگی کے قریب موٹر سائیکل چھیننے کے دوران بائیس
سالہ نوجوان کی جان لے لی۔غمزدہ لواحقین کہتے ہیں
عزیر نے پائی پائی جوڑ کر موٹر سائیکل خریدی تھی۔
125 بائیک خریدنا عزیر کا
پرانا خواب تھا۔جس کی تکمیل کے لئے اس نے
پائی پائی جوڑی۔ دو برسوں کی محنت منٹوں میں لٹتی دیکھی تو جان کی بازی
لگادی۔بائیک تو بچ گئی،،، مگر اسے شوق سے خریدنے والا نہ رہا۔
دو ڈھائی سال سے پیسے جمع کررہا تھا کہ 125 ہی لینی ہے میں اس کو منع بھی کررہا
تھا کہ125 مت لو سب اسکو کہتے تھے کوئی
نارمل پرانی بائیک لے لو لیکن وہ نہیں لو
9بجے نکلے کراسنگ سے واپس گھرآرہے تھے دو بائیک آئیں اور ہمیں فٹ پاتھ پر دبا دیا اور بائک کی چابی نکال لی جھگڑا
ہوا چابی لے کر جانے لگے تو پیچھے سے فائر مار دیا
غمزدہ لواحقین اور دوستوں
کا کہنا ہے کہ عزیر نے آنکھوں میں پولیس کی وردی پہننے کا خواب سجا رکھا تھا۔اب محکمہ پولیس سے اپیل ہے کہ
قاتلوں کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کرے۔
پولیس پکڑتی ہے پیسے لیکر چھوڑدیتی ہے کیا فائدہ اسے قانون کا بتا ہے یہ مجرم ہے اس نے یہ کام کیا ہے مجرم کو
فوری کیفرکردار تک پہنچا نا چاہئے
یہ کچھ بھی نہیں کرتے بھائی یہ سب کافی عرصے سے چلا آرہا ہے صرف دوچار دن سنتے ہیں اس کے بعد سب ختم، تین چار
دن تک سب پوچھتے ہیں پھر کہانی ختم ہوجاتی ہے
عزیر کی اندوہناک موت پر
علاقے کی فضاء بھی سوگوار اور ہر آنکھ
اشکبار ہے۔پولیس کا کہنا ہے مقتول عزیر کی مزاحمت پر ملزم نہ صرف واردات میں ناکام
ہوئے بلکہ وہ موٹر سائیکل بھی چھوڑ کر فرار ہوئے جو ملزموں نے کچھ دیر قبل کورنگی
سے ہی چھینی تھی۔پولیس نے واردات میں ملوث ملزموں کی تلاش شروع کردی ہے۔
عزیر ہی نہیں
رواں سال اپنے خوبوں کو یو ں
بکھرتا دیکھ کر اسٹریٹ کرمنلز کو للکارنے والے
54 شہری ملزمان کی گولیوں کا نشانہ بن کر
جاں بحق اور 458 زخمی ہوچکے ہیں۔