کراچی کی
اکثر شاہراہوں پر غیر قانونی پارکنگ کروانے والوں کو کسی کا خوف نہ رہا ۔۔ سندھ
ہائی کورٹ کے سامنے شاہراہ پر بھی پارکنگ
کے نام پر شہریوں سے من مانے پیسے وصول کیئے جاتے ہیں ۔۔چہرہ نیوز کے کیمرے نے غیر
قانونی پارکنگ کے کاروبار میں ملوث افراد کو رنگے ہاتھ پکڑ لیا ۔
کورٹ روڈ ۔۔
صدر کی اس مصروف ترین شاہراہ پر پاسپورٹ آفس ، ایف آئی اے اور الیکشن کمیشن کے
مرکزی دفاتر اور سندھ ہائی کورٹ کی عمارت واقع ہے ۔۔
کورٹ روڈ کی
دونوں جانب چارج پارکنگ کے نام پر شہریوں سے کھلے عام من مانے پیسے وصول کئے جاتے
ہیں ۔۔چہرہ نیوز کے کیمرے نے
پارکنگ کروانے والوں کو رنگ ہاتھوں پکڑا ۔۔ لیکن جب ان سے بات کی تو یہ لوگ طرح
طرح کے بہانے بنانے لگے ۔
سرخالی کپڑا
مارتے ہیں گاڑی دھوتے ہیں۔ پارکنگ کے پیسے کوئی دیتا ہی نہیں ۔صرف دھونے کے پیسے دیتے ہیں کسی کو
کوکپڑا ماردیتے ہیں ۔تو دے دیتا ہے
پارکنگ پتہ
نہیں کون کرواتا ہے ہم صرف صفائی کرتے ہیں ۔۔۔یہ گاڑیاں کس نے لگائیں؟کوئی گاڑیاں
خود لگی ہیں کوئی صفائی کے لیے لگی ہوئی ہیں
گاڑیوں کے
مالکان نےچہرہ نیوز سے بات کرتے ہوئے غیر قانونی پارکنگ کے عوض من مانے پیسے وصول
کرنے کا بھانڈا پھوڑا دیا ۔
یہ سوروپے
مجھ سے بول رہاتھا میں نے کہا میں ہر جگہ 50روپے دیتا ہوں۔ 50روپے میں اس سے بات
ہوئی ہے۔ گاڑی نہیں کھڑی کریں تو آپ کو بھی پتہ ہے ۔مافیا ہے یہ
پارکنگ کے لیےڈیڑھ
سو روپے لیے ہیں آپ کی گاڑی کو ڈیڑھ گھنٹے دو گھنٹے ہوگئے ہیں آگے بھی خدمت کرنی
ہے اس لیے ڈیڑھ سو روپے دئے ہیں
بلدیہ عظمی
کراچی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں تراسی چارج پارکنگ سائٹس ہیں
۔۔ چودہ مقامات پر تجرباتی بنیادوں پر چارج پارکنگ کی جا رہی ہے جبکہ انیس نئے
مقامات پر چارج پارکنگ بنانے کی سفارش کی گئی ہے ۔۔ لیکن غیر قانونی پارکنگ کا
دھندہ کیسے چل رہا ہے اور اس مد میں جمع پیسہ
کس کی جیب میں جاتا ہے،،، ان سولات کا جواب دینے کو کوئی تیار نہیں ۔۔