سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کے عمران خان جب تک یہاں سے
جائے گا نہیں لوگوں کی مہنگائی سے جان نہیں چھوٹے گی وزیر اعظم ہو یا گورنر سندھ یہ
دونوں آئینی عہدے ہیں لیکن افسوس کہ اس وقت یہ نالائقوں کے پاس ہیں اور ان کی کم
علمی اور نالائقی کے پاس پاکستان کا امیج دنیا میں خراب ہورہا ہے
کراچی میں پیپلز پارٹی کے جلسہ گاہ کے دورہ کے موقع پر سعید غنی کا
کہنا تھا کے گذشتہ سال جلسہ میں صرف کراچی ڈویژن کے لوگ شریک تھے تاہم اس سال سندھ
بھر کے تمام ڈسٹرکٹ اس جلسہ میں شامل ہوں گے
جلسہ عام۔میں گذشتہ رات تک 40 ہزار کرسیاں لگائی گئی تھی تاہم کچھ جگہ باقی
ہونے کے بعد مزید کرسیاں بڑھائی گئی ہیں ہم نے جلسہ کے شرکاء کے لئے ماسک، سینیٹائزرز
اور پانی کا وافر مقدار میں بندوبست کیا ہے
لیاقت علی خان پورے ملک کے وزیر اعظم تھے لیکن ان کی پیدائش اور وفات کراچی
میں نہیں ہوئی تھی اور یہ ہم بچپن سے پڑھتے آئے ہیں پی ٹی آئی میں نالائقی کسی حد
تک محدود نہیں ہے بلکہ ان میں نالائقی کا مقابلہ ہوتا ہے ان میں مقابلہ اس بات کا
ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ نالائق کون ہے اور سب سے زیادہ کم علم کون ہے گورنر سندھ
کا جس سیاسی جماعت سے تعلق ہے اس جماعت میں بھڑکیں مارنے اور اس طرح کی بلا
معلومات بات کرنے والوں کو شاباشی ملتی ہے جب اس پارٹی کا سربراہ خود اس طرح کی
باتیں کرتا رہا ہو تو پھر ان کے گورنر نے سوچا کہ وہ کیوں پیچھے رہے میرا مشورہ ہے
کہ گورنر صاحب اپنے ہائوس میں بیٹھے اور چائے پئیے کیونکہ اس طرح کی سیاسی باتوں
سے علم نہ ہونے پر ان کی وجہ سے پورے ملک کی دنیا بھی بدنامی ہوتی ہے جلسہ سے
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خطاب کریں گے۔ اس کے علاوہ پارٹی
کے سنئیر قائدین اور صوبائی قائدین خطاب کریں گے، آصف علی زرداری یا آصفہ بھٹو کے
خطاب کا کوئی حتمی پروگرام نہیں ہے