چھیڑا جو تو نے ذکرِ کراچی کا، ہم نشیں
ایک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے
’’لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان۔‘‘
محمد ظہیر الدین قریشی
میری عمر اس وقت بہت کم تھی جب گلیوں، محلوں اور اجتماعات میں یہ نعرے سنائی دیتے تھے۔ پاکستان کی ایک میٹھی اور حسین تصویر میرے ذہن میں بنی ہوئی تھی۔ میں اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ پاکستان بننے کے بعد میرے پاس ایک نئی سائیکل ہوگی، میں روز نئے کپڑے پہن کر اسکول جایا کروں گا اور زندگی خوشیوں سے بھر جائے گی۔ خیر، میں بچہ ہی تو تھا۔
1947ء میں ہمارے سب بزرگوں نے مل بیٹھ کر فیصلہ کیا کہ ہم ہندوستان سے ہجرت کرکے ایک نئے ملک پاکستان میں آباد ہوں گے؛ ایک ایسا ملک جہاں اسلام کا بول بالا ہوگا، جہاں ہم آزاد ہوں گے اور عزت و سکون کے ساتھ زندگی بسر کریں گے۔ اس زمانے میں ہمارے علاقے میں قتل و غارت کا سلسلہ جاری تھا اور ریل گاڑی کا سفر بھی خطرناک سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ یہ طے ہوا کہ پہلے ممبئی جائیں گے اور وہاں سے بحری جہاز کے ذریعے پاکستان پہنچیں گے۔
غرض، اگست 1947ء میں، صحیح دن اور تاریخ اب مجھے یاد نہیں، میں، میرا خاندان، کمال چچا اور ان کا خاندان، پھوپھی جان اور ان کا خاندان، سب ممبئی جا پہنچے۔ وہاں خوجہ جماعت نے ہم مسافروں کا استقبال کیا اور ہمیں اپنے جماعت خانے کے ایک بڑے ہال میں ٹھہرا دیا۔ ہال کی چھت بہت بلند تھی اور اس میں بہت سے ستون تھے، مگر دیواریں نہیں تھیں۔
’’دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر‘‘
علامہ اقبال کے اس شعر پر عمل کرتے ہوئے ہمارے بزرگوں نے اسی کھلے ہال کے ایک حصے کو اپنے قیام کے لیے مخصوص کرلیا۔ یوں ہم نے تقریباً بیس دن وہیں گزارے۔
ہمارے بزرگ صبح سویرے کچھ کھا پی کر تیار ہوتے، جہاز کے ٹکٹ حاصل کرنے کے ارادے سے نکل جاتے اور ممبئی کی سیر بھی کر آتے۔ شام کو مسکراتے ہوئے واپس آتے اور بتاتے کہ بہت دیر تک قطار میں انتظار کرنے کے باوجود بحری جہاز کے ٹکٹ نہیں مل سکے۔
آخرکار دس بیس دن کے انتظار کے بعد ہمیں جہاز کے ٹکٹ مل گئے اور ہم ممبئی سے پاکستان کے لیے روانہ ہوئے۔ پرانے زمانے کا ایک چھوٹا سا جہاز تھا جس کا نام ’’شرالا‘‘ تھا۔ اللہ اللہ کرکے تیسرے پہر کے قریب جہاز صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کی بندرگاہ کیماڑی پہنچا اور کنارے جا لگا۔
یہ ہماری پاکستان کی سرزمین پر پہلی آمد تھی۔
جہاز سے اترتے ہی ہم نے سب سے پہلے کچھ مقامی لوگوں کو دیکھا جو موٹے تگڑے اور سیاہ فام تھے۔ ان کے بال گھنگریالے اور چھوٹے تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ مکرانی لوگ ہیں۔ بعد کے دس برس ہم نے اسی صوبہ سندھ میں گزارے اور اس دوران ہم سندھی زبان اتنی اچھی طرح سیکھ گئے کہ اسے بول بھی سکتے تھے اور لکھ بھی سکتے تھے۔
بندرگاہ سے کچھ فاصلے پر ٹین کے ایک شیڈ کے نیچے لوگوں کی ایک لمبی قطار نظر آئی۔ وہاں دال روٹی تقسیم کی جا رہی تھی۔ ہم بھی اسی قطار میں لگ گئے۔ ہم بھوکے تو تھے ہی؛ وہیں کسی کونے میں بیٹھ کر وہ دال روٹی کھائی۔ اس لذیذ دال روٹی کا ذائقہ مجھے آج تک یاد ہے۔ غالباً اس کھانے کا انتظام حکومتِ پاکستان یا کچھ مخیر حضرات نے کیا ہوگا۔
اب رات ہو چکی تھی۔ ہم سب کھڑے سوچ رہے تھے کہ اب کیا کریں اور کہاں جائیں۔ ہمارے پاس الیاس ماموں جان کے گھر کا پتہ موجود تھا۔ والد صاحب نے ذرا فاصلے پر کھڑے ایک بگھی والے سے بات کی اور چھ روپے میں یہ طے کرلیا کہ وہ ہمیں ہمارے سامان سمیت ایبی سینیا لائنز پہنچا دے گا۔
ہم بندر روڈ سے ہوتے ہوئے صدر کے علاقے تک پہنچے۔ بگھی والا بار بار بگھی سے اترتا، کاغذ پر لکھا ہوا پتہ لوگوں کو دکھاتا، ایبی سینیا لائنز کا راستہ پوچھتا اور پھر آگے چل پڑتا۔ رات گہری ہوتی جارہی تھی اور ہم آبادی سے دور نکل آئے تھے۔ گھر کی خواتین سہمی ہوئی تھیں۔ اس اجنبی شہر میں رات کے وقت نہ معلوم ہمارے ساتھ کیا ہونے والا تھا۔
اللہ اللہ کرکے آخرکار ہم ایبی سینیا لائنز پہنچ گئے۔ رات کا سناٹا تھا اور آس پاس کوئی ایسا شخص دکھائی نہیں دیتا تھا جس سے مزید پتہ پوچھا جا سکے۔ کچھ آگے بڑھے تو ایک کوارٹر میں روشنی نظر آئی۔ والد صاحب نے مجھے کہا:
’’ظہیر، تم ذرا آگے جا کر ان لوگوں سے کچھ معلوم کرو۔‘‘
میں بگھی سے اترا اور آگے بڑھا۔ برآمدے میں ایک شخص بیٹھا نظر آیا۔ میں نے قریب جا کر کہا:
’’السلام علیکم۔‘‘
ذرا وقفے کے بعد اندر سے آواز آئی:
’’ارے ظہیر! تم اس وقت یہاں کیسے؟‘‘
میری حیرت خوشی میں بدل گئی۔ یہی تو الیاس ماموں کا مکان تھا!
سب لوگ بگھی سے اترے، سامان اتارا گیا اور ہم نے سکھ کا سانس لیا۔ الیاس ماموں سرکاری ملازم تھے، اس لیے انہیں یہ مکان ملا ہوا تھا، مگر اس وقت وہ مکان کسی مسافر خانے سے کم نہ تھا۔
صبح سویرے ناشتہ وغیرہ کرنے کے بعد ہم وہاں سے روانہ ہوئے۔ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی سٹی اسٹیشن پہنچے اور پہلی گاڑی سے کوٹری کے لیے روانہ ہوگئے، جہاں والد صاحب کو ریلوے گارڈ کی حیثیت سے تعینات کیا گیا تھا۔
کوٹری جنکشن ایک چھوٹا سا شہر تھا اور حیدرآباد سے بہت قریب تھا۔ حیدرآباد اس وقت سندھ کا ایک بڑا شہر تھا۔ بعد میں کالج کے زمانے میں میں روزانہ کوٹری سے حیدرآباد جاتا اور اکثر خریداری کے لیے بھی وہاں کا رخ کرتا۔
کوٹری پہنچ کر ہم سیدھے اسٹیشن ماسٹر کے دفتر گئے جو اسٹیشن ہی پر تھا۔ وہاں افضل بابو سے ملاقات ہوئی۔ ان کے ذمہ دوسرے کاموں کے علاوہ ریلوے کے کوارٹروں کی الاٹمنٹ بھی تھی۔
افضل بابو نے بتایا:
’’اس وقت تو کوئی کوارٹر خالی نہیں ہے۔ فی الحال آپ خود کوئی بندوبست کرلیں۔‘‘
والد صاحب پریشان ہوگئے۔ بولے:
’’اس اجنبی شہر میں، جس کے بارے میں میں کچھ نہیں جانتا، اپنی بیوی بچوں کو لے کر کہاں بھٹکتا پھروں گا؟‘‘
افضل بابو شریف اور ہمدرد انسان تھے۔ وہ بھی کچھ دیر سوچتے رہے۔ پھر بولے:
’’میں ایک کوارٹر میں اکیلا رہتا ہوں۔ اس میں دو کمرے ہیں۔ وقتی طور پر ایک کمرے میں میں خود رہ لوں گا اور باقی گھر آپ استعمال کرلیں۔ بس آپ کو اتنی مہربانی کرنا ہوگی کہ مجھے دونوں وقت کا کھانا اور ناشتہ دے دیا کریں۔‘‘
یوں چند ہی منٹوں میں سارے معاملات طے ہوگئے اور افضل بابو کی مدد سے ہم ان کے کوارٹر میں جا بسے، جو اسٹیشن کے بہت قریب تھا۔
آہستہ آہستہ زندگی معمول پر آتی گئی۔
کراچی — صوبہ سندھ کا دارالحکومت
صوبہ سندھ کا دارالحکومت کراچی ہمارے لیے رفتہ رفتہ دوسرے گھر جیسا بن گیا تھا۔ ہمارے بہت سے عزیز و اقارب یہاں آباد تھے، اس لیے ہمارا آنا جانا لگا رہتا۔ اس کے علاوہ والد صاحب نے پی ای سی ایچ سوسائٹی میں ایک رہائشی پلاٹ بھی خرید لیا تھا، جس علاقے کو بعد میں طارق روڈ کے حوالے سے زیادہ شہرت ملی۔
ہم پہلی مرتبہ بڑے چاؤ سے اپنا پلاٹ دیکھنے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی پہنچے۔ ہمیں معلوم ہوچکا تھا کہ ہمارا پلاٹ مزارِ قائد کے قریب ہے۔
اس زمانے میں شہر کے اندر صرف چند بسیں چلتی تھیں اور وہ بھی زیادہ تر آباد علاقوں تک محدود تھیں۔ گرو مندر پر بس سے اتر کر ہم والد صاحب کے ہمراہ پیدل مزارِ قائد تک پہنچے۔
مزار پر ایک شامیانہ لگا ہوا تھا۔ پانی کے چھڑکاؤ سے بھیگی ہوئی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھی ہوئی تھی اور چاروں طرف بہت سے پھول رکھے تھے۔ قبر کے اطراف قالین بچھے ہوئے تھے۔ قریب ہی میزوں پر قرآن پاک رکھے ہوئے تھے اور کئی لوگ قالینوں پر بیٹھے تلاوت میں مصروف تھے۔ مرد اور عورتیں بڑی تعداد میں زیارت کے لیے آئے ہوئے تھے اور بہت سی آنکھوں میں آنسو تھے۔
ہم نے سنا تھا کہ قائداعظم نے اپنے مزار کے لیے یہ جگہ خود پسند کی تھی۔ یہ مقام شہر کے قریب مگر قدرے بلند جگہ پر تھا۔ اس وقت مزار کے اطراف کا علاقہ زیادہ تر غیر آباد اور خالی تھا۔ ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے ہزاروں خاندانوں نے قرب و جوار میں جھگیاں ڈال رکھی تھیں۔ ان میں ہمارے کچھ قریبی عزیز بھی شامل تھے۔ یہ ایسے پڑھے لکھے لوگ تھے جو ہندوستان میں اپنے پکے مکانات اور جمی جمائی زندگی چھوڑ کر پاکستان آئے تھے۔
ہمارا تین سو گز کا پلاٹ بھی اسی علاقے میں تھا۔
مزار پر فاتحہ پڑھنے کے بعد ہم اپنے پلاٹ کی تلاش میں آگے بڑھے۔ کچھ دور چلنے کے بعد ایک قبرستان نظر آیا۔ قریب ہی کچھ لوگ جنازہ دفن کر رہے تھے۔ مجھے خوف نے گھیر لیا۔
میں نے والد صاحب سے کہا:
’’آپ نے کہاں اس ویرانے میں پلاٹ خرید لیا ہے؟ ہم یہاں کیسے رہیں گے؟‘‘
والد صاحب نے اطمینان سے کہا:
’’بیٹا، تم دیکھتے رہو۔ چند ہی دنوں میں یہ جگہ ایسی آباد ہوجائے گی کہ تم اسے پہچان بھی نہ سکو گے۔‘‘
اس علاقے میں پلاٹوں کی نشاندہی کے لیے کچھ لکیریں وغیرہ کھینچی گئی تھیں۔ ہم نے اپنا پلاٹ دریافت کیا اور واپس آگئے۔
والد صاحب کی بات بعد میں درست ثابت ہوئی۔ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کی آبادی بڑھتی گئی، نئی بستیاں بنتی گئیں اور وہ ویرانے رفتہ رفتہ آباد محلوں میں تبدیل ہوتے گئے۔
مزارِ قائد
قائداعظم کے انتقال کے بعد محترمہ فاطمہ جناح کی کوششوں اور چند دوسرے مخلص افراد کے تعاون سے ’’قائداعظم ریلیف فنڈ‘‘ قائم کیا گیا۔ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے لوگوں نے خاص طور پر اس فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ چند ہی دنوں میں لاکھوں روپے جمع ہوگئے، جو حبیب بینک میں جمع کرا دیے گئے۔
حبیب بینک پاکستان کے ابتدائی قومی مالیاتی اداروں میں شمار ہوتا تھا اور قائداعظم کی کوششوں سے اسے ہندوستان سے پاکستان منتقل کیا گیا تھا۔
مزارِ قائد کی تعمیر کے بارے میں کافی عرصے تک بحث اور مختلف تجاویز چلتی رہیں۔ بالآخر ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت مزار کی تعمیر شروع ہوئی۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق مزار کا ڈیزائن یحییٰ مرچنٹ نے تیار کیا، تعمیر 1970 میں مکمل ہوئی اور 1971 میں اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا۔
D
Department of Animal Husbandry
+1
میں بچپن سے یہ سنتا آرہا تھا کہ مزار کی تعمیر کے بعد اس کے اطراف ایک شاندار مسجد اور ایک بڑی لائبریری بھی قائم کی جائے گی۔ وہ خواب کس حد تک پورا ہوا، یہ الگ بات ہے، مگر ہمارے بچپن کی یادوں میں یہ تصور ضرور موجود تھا۔
1948ء میں قائداعظم کے انتقال کی خبر مہاجرین پر بجلی کی طرح گری تھی۔ یہ لوگ قائداعظم کو اپنا رہنما، اپنا قائد اور اپنے لیے ایک عظیم سہارا سمجھتے تھے۔ انہیں محسوس ہوا کہ وہ یتیم ہوگئے ہیں۔
قائد کی وفات پر ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے نوحے کے چند اشعار مجھے آج تک یاد ہیں:
نوحہ
’’آج کیوں غم کی گھٹا چاروں طرف چھائی ہے
آج کیوں لرزہ بہ لب دل شکیبائی ہے
آج کیوں گم ہوئے جاتے ہیں زمانے کے حواس
آج کیوں چہرۂ فطرت نظر آتا ہے اداس
ہائے کس منہ سے کہیں قائداعظم نہ رہا
زخم باقی ہے مگر زخم کا مرہم نہ رہا‘‘
ابتدائی کراچی کی زندگی
قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں صوبہ سندھ کا دارالحکومت کراچی ایک نسبتاً پُرسکون، پُرامن اور خوبصورت شہر تھا۔ اس کی بندرگاہ، بازار، سڑکیں، رہائشی بستیاں اور تجارتی مراکز پورے سندھ کی معاشی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔
شہر میں بہت سے پارسی خاندان آباد تھے۔ یہ لوگ عموماً تجارت پیشہ اور امن پسند تھے۔ تجارتی جہاز رانی میں بھی ان کی نمایاں خدمات تھیں۔ وہ اپنے جہازوں کے عملے کا بہت خیال رکھتے تھے اور بڑی خوش اسلوبی سے اپنے کاروبار کو چلاتے تھے۔
بعد کے زمانے میں قومی جہاز رانی میں مختلف تبدیلیاں آئیں۔ نیشنل شپنگ کارپوریشن کے بیڑے میں کمی آئی اور اسی طرح پی آئی اے کو بھی مختلف ادوار میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
صوبہ سندھ کا دارالحکومت کراچی اپنے ساحلوں کی وجہ سے بھی مشہور تھا۔ کلفٹن کا ساحل، ہاکس بے اور سینڈز پٹ کے سنہری ریتیلے ساحل لوگوں کی تفریح کا ذریعہ تھے۔ ہر علاقے اور محلے میں سینما گھر قائم ہوگئے تھے۔ بچوں اور بڑوں کے لیے باغِ جناح اور گاندھی گارڈن، یعنی موجودہ کراچی چڑیا گھر، تفریح کے اہم مقامات تھے۔
1947ء کے بعد ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے لاکھوں مسلمان اپنے گھر، کاروبار اور بزرگوں کی قبریں ہندوستان میں چھوڑ کر پاکستان پہنچے۔ صوبہ سندھ نے ان مہاجر خاندانوں کو اپنے اندر جگہ دی اور صوبہ سندھ کا دارالحکومت کراچی ان کی آبادکاری کا ایک بڑا مرکز بنا۔
اس وقت شہر کے مضافات میں بہت سی زمینیں خالی پڑی تھیں۔ جس خاندان کو جہاں جگہ ملی، اس نے بانسوں اور کھجور کی چٹائیوں سے جھگی بنائی اور زندگی شروع کردی۔
کراچی کے مضافات میں پیر الٰہی بخش کی بڑی زمینیں تھیں۔ انہوں نے اپنی غیر آباد زمینوں پر آنے والے مہاجر خاندانوں کو آباد ہونے کی اجازت دی۔ حکومت نے بھی مختلف مقامات پر چھوٹے چھوٹے کوارٹر بنا کر سرکاری ملازمین کو دیے۔ انہی میں سے ایک کوارٹر میں مشہور بینکر اور مزاح نگار محترم مشتاق احمد یوسفی نے بھی ایک زمانے میں قیام کیا تھا۔
پیر الٰہی بخش ایک ہمدرد اور غریب پرور انسان تھے۔ پیر الٰہی بخش کالونی کے لوگوں کو اپنی رعایا سمجھتے اور ان کے مسائل سننے کے لیے ان کی بیٹھک ہمیشہ کھلی رکھتے تھے۔ لوگ آتے، اپنے مسائل بیان کرتے اور وہ اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کرتے۔
اسی طرح صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے دوسرے غیر آباد علاقوں میں بھی حکومت نے سرکاری ملازمین کو پلاٹ الاٹ کیے۔ اس دور کی تفصیل بہت طویل ہے۔
شہر کے ایک سرے پر ایک ندی یا بڑا نالہ تھا جو عام دنوں میں خشک رہتا، مگر بارشوں کے موسم میں پانی سے بھر جاتا۔ اسی علاقے میں کسی ’’لالو‘‘ نامی شخص کے کھیت ہوا کرتے تھے۔ ہجرت کرکے آنے والے ہزاروں خاندانوں نے وہاں جھگیاں ڈالیں اور یوں ایک نئی آبادی وجود میں آئی۔
کافی عرصے تک یہ علاقہ لالو کھیت کہلاتا رہا، بعد میں اس کا نام قائد آباد رکھا گیا۔ مشہور مزاحیہ اداکار عمر شریف کا تعلق بھی اسی علاقے سے تھا۔ جاسوسی ناولوں کے معروف مصنف ابنِ صفی بھی یہاں رہے۔ عظیم سارنگی نواز احمد خان کی جھگی بھی اسی علاقے میں تھی۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ پنڈت نہرو نے خود ان سے درخواست کی تھی کہ وہ پاکستان نہ جائیں۔
زندگی آہستہ آہستہ اپنے راستے بناتی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے انسان کے لیے نئے اسباب پیدا ہوتے رہتے ہیں۔
نئی بستیاں، نئی زندگی
صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کی قیادت اور انتظامیہ نے نئی آبادیوں کو منظم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے۔ چھوٹے چھوٹے ساٹھ گز کے پلاٹ بنا کر جھگیوں میں رہنے والے خاندانوں کو الاٹ کیے گئے۔ درمیان میں سڑکیں بنائی گئیں۔
ابتدائی دنوں میں سہولتیں بہت محدود تھیں۔ سڑک کے کنارے چھ چھ فٹ کے پکے پاخانے بنائے گئے۔ علی الصبح لوگ اپنے گھروں سے لوٹے میں پانی لے کر نکلتے اور اپنی باری کا انتظار کرتے۔ یہ سب لوگ عموماً پڑھے لکھے، نوکری پیشہ یا تجارت پیشہ افراد تھے، مگر نئے ملک میں انہیں اپنی زندگی ازسرنو شروع کرنا تھی۔
بعد میں وقفے وقفے سے سیمنٹ کے چبوترے بنائے گئے اور ان پر پانی کے نل لگائے گئے۔ یوں آہستہ آہستہ زندگی کا ایک نیا معمول قائم ہوگیا۔
ان لوگوں کے پاس مشکلات بہت تھیں، مگر امید اس سے کہیں زیادہ تھی۔ انہیں یقین تھا کہ وہ ایک اسلامی ملک میں آچکے ہیں اور ان شاء اللہ وقت کے ساتھ حالات بہتر ہوں گے، انصاف قائم ہوگا اور ہر شخص کو اس کا حق ملے گا۔
لوگوں نے اپنی الاٹ شدہ زمینوں پر تعمیرات شروع کردیں۔ تعمیراتی سامان مناسب داموں پر دستیاب تھا۔ سیمنٹ کی بوری تقریباً دو روپے پچھتر پیسے، ملیر کی بجری کا ٹرک آٹھ روپے، لوہا دس یا بیس روپے کے قریب، تجربہ کار مستری کی دیہاڑی پانچ روپے اور مزدور کی دیہاڑی دو روپے ہوا کرتی تھی۔ ایک سرکاری بابو کی ماہانہ تنخواہ ساٹھ سے نوے روپے تک ہوتی تھی۔
مزدوروں کی قلت پوری کرنے کے لیے شمالی علاقوں سے مضبوط جسم والے پٹھان جوق در جوق صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی پہنچنے لگے۔ انہوں نے تعمیرات اور بعد میں شہر کے نقل و حمل کے نظام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
کراچی کا مواصلاتی نظام
ابتدائی زمانے میں صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کا مواصلاتی نظام بہت محدود تھا۔ ایک بجلی سے چلنے والی ٹرام تھی جو سڑک کے درمیان چلتی اور کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن سے بندر روڈ ہوتی ہوئی کیماڑی تک جاتی تھی۔
آبادی بڑھنے کے ساتھ بسوں کی تعداد بھی بڑھتی گئی۔ پھر شہر میں سائیکل رکشے نظر آنے لگے۔ ٹریفک میں اضافے کے ساتھ انتظامیہ نے محسوس کیا کہ پرانی ٹرامیں اب شہری ضرورت پوری نہیں کر رہیں، چنانچہ رفتہ رفتہ ٹرام سروس ختم ہوگئی۔
اسی زمانے میں پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی بھی آباد ہونا شروع ہوگئی تھی، مگر بسیں سوسائٹی کے اندر نہیں جاتی تھیں۔ گرو مندر پر بس سے اتر کر پیدل اپنے پلاٹ تک پہنچنا پڑتا تھا۔ سائیکل رکشے نے یہ مشکل آسان کردی۔
کچھ عرصے بعد انتظامیہ نے سائیکل رکشے کو انسانی محنت کے اعتبار سے نامناسب سمجھتے ہوئے اس پر پابندی عائد کردی۔ شروع میں رکشہ والوں میں بے چینی پیدا ہوئی، مگر جلد ہی موٹر رکشے نے اس ضرورت کو پورا کردیا۔
کچھ رکشہ والوں نے بینکوں سے قرض لے کر یا قسطوں پر موٹر رکشے خرید لیے۔ یوں رفتہ رفتہ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کا شہری ٹرانسپورٹ کا نظام پھیلتا گیا۔ بسیں، ٹیکسیاں اور رکشے شہر کے مختلف علاقوں کو آپس میں ملانے لگے۔
یہی وہ زمانہ تھا جب ایک نئی زندگی اپنے قدم جما رہی تھی۔ مہاجر خاندان اپنے دکھ، صدمے اور ماضی کی یادیں ساتھ لے کر آئے تھے، مگر انہوں نے سندھ کی سرزمین پر اپنے لیے نئے گھر بنائے۔ سندھ نے انہیں جگہ دی اور انہوں نے بھی اپنی محنت، ہنر اور کاروباری صلاحیتوں سے صوبے کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیا۔
یوں صوبہ سندھ کا دارالحکومت کراچی صرف ایک شہر کی آبادی نہیں رہا بلکہ پورے سندھ کی معاشی سرگرمیوں، تجارت، صنعت، بندرگاہ اور روزگار کا ایک بڑا مرکز بنتا چلا گیا۔ سندھ کے مختلف علاقوں سے لوگ یہاں آتے رہے اور یہاں سے پورے صوبے کے ساتھ معاشی اور سماجی روابط مضبوط ہوتے گئے۔
آخری بات
1947ء میں ہمارے بزرگوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہمیں ہجرت کرکے پاکستان جانا چاہیے۔ وہ ایک نئے وطن کے خواب کے ساتھ نکلے تھے۔ ان کے دل میں پاکستان کی محبت تھی اور اس یقین کے ساتھ سفر کیا تھا کہ آنے والی نسلیں ایک آزاد ملک میں عزت، امن اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزاریں گی۔
ہم نے ہجرت کی، سندھ کی سرزمین پر قدم رکھا، کوٹری میں زندگی شروع کی اور صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی سے ہمارا تعلق دن بہ دن مضبوط ہوتا گیا۔ کراچی ہمارے لیے صرف رہنے کی جگہ نہیں تھا بلکہ سندھ کی اس وسیع سرزمین کا وہ مرکزی شہر تھا جہاں روزگار، تجارت، تعلیم اور نئی امیدیں ایک دوسرے سے ملتی تھیں۔
وقت گزرتا گیا۔ زندگی نے بہت سے رنگ دکھائے۔ پھر ایک وقت ایسا آیا جب حضرت قمر بدایونی کی یہ نظم سنی:
’’اے میرے ہم نشیں چل کہیں اور چل
اس چمن میں اب اپنا گزارا نہیں‘‘
اس نظم نے مجھے بھی سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کیا۔ آخرکار کینیڈا کا ویزا حاصل کیا اور خاندان کے ہمراہ اس آزاد ملک میں آگیا۔ گزشتہ تینتیس برس سے یہاں عزت کے ساتھ مقیم ہوں۔ یہاں مجھے اور میرے بچوں کو وہ حقوق حاصل ہیں جو ایک آزاد ملک کے شہری کی حیثیت سے ہر شخص کو حاصل ہونے چاہئیں۔
مگر انسان جہاں بھی چلا جائے، اس کا بچپن اس کے ساتھ چلتا ہے۔
میرا بچپن آج بھی کبھی کیماڑی کے ساحل پر کھڑا نظر آتا ہے، کبھی کوٹری کے ریلوے اسٹیشن پر، کبھی مزارِ قائد کے خاموش احاطے میں، کبھی پی ای سی ایچ ایس کے اس ویران پلاٹ پر اور کبھی صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کی ان پرانی سڑکوں پر، جہاں ٹرام کی گھنٹی بجتی تھی، سائیکل رکشے چلتے تھے اور ایک نئے ملک میں نئی زندگی بنانے والے لوگ اپنے خوابوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔
کراچی کی یاد دراصل سندھ کی یاد ہے؛
اس شہر کی گلیاں، اس کی بندرگاہ، اس کے بازار اور اس کی بستیاں اسی سرزمینِ سندھ کی اجتماعی داستان کا حصہ ہیں۔
کراچی میرے بچپن کی ان حسین یادوں کا نام ہے جنہیں وقت اور فاصلے آج تک مجھ سے جدا نہیں کرسکے۔