سادہ لوح افراد کے فنگر پرنٹس حاصل کرکے سم
کارڈز ایکٹیو کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب۔ ایف آئی اے نے نیٹ ورک کے سرغنہ سمیت گیارہ
ملزم گرفتار کرلئے۔
ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نے کراچی اور
اندرون سندھ میں کارروائیاں کرتے ہوئے جعلسازی میں ملوث گروہ کے گیارہ کارندے
گرفتار کرلئے۔ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے
سائبر کرائم سندھ نے بتایا کہ ملزم تھر پارکر میں خود کو این جی او کا نمائندہ
ظاہر کرکے لوگوں کے انگھوٹھوں کے نشان حاصل کرتے اور ان پر سم کارڈز نکلواتے تھے
وہاں سے ریکور کرلیتے ہیں پورا گیارہ لوگوں کو
نیٹ ورک بریک کیا ہے
ایف آئی اے حکام کے مطابق تھر پار کر سے گرفتار
تین ملزموں کی بی ٹیم کو گھارو جبکہ دیگر ساتھیوں کو کراچی قائد آباد سے پکڑا گیا،
انہوں نے بتایا کہ زیادہ پیسہ کمانے کی لالچ میں مختلف فرنچائز مالکان اس دھندے میں
ملوث ہیں۔
کنٹریکٹر ہیں جو ان فرینچائزیز نے رکھے ہوئے تھے جو کہ پورے سندھ میں پھیلے
ہوئےہیں اور جوکہ کراچی کے بہت سارے فرینچائزیز کوغیرقانونی سم ایکٹیویٹ کرکے دیتے ہیں یہ لوگ انسمز کو مختلف کرمنلز کو
دیتے ہیں
ایف آئی اے حکام دعویٰ کرتے ہیں کہ جعلی سم
کارڈز کے ذریعے مختلف واٹس ایپ اکاونٹس بناکر بھی مختلف جرائم میں استعمال کیا
جاتا ہے، ایف آئی اے حکام نے سم کارڈز کے غیر قانونی اجراء پر متعلقہ اداروں کو خط
لکھنے اور سخت لائحہ عمل بنانے کا بھی عندیہ دیا ہے۔