مظاہرین نے دھرنا ختم کرتے ہوئے رات گئے قومی شاہراہ کو ٹریفک کی آمد ورفت کے لئے کھول دیا

عرفان علی عرفان علی

مظاہرین نے دھرنا ختم کرتے ہوئے  رات گئے قومی شاہراہ کو ٹریفک کی آمد ورفت کے لئے کھول دیا

 کراچی کے علاقےملیر میمن گوٹھ میں مبینہ طور پر رکن سندھ اسمبلی اور ساتھیوں کے تشدد سے ہلاک نوجوان نے وزیر اعلیٰ سندھ  اور صوبائی وزراء کی یقین دہانی کے بعد دھرنا ختم کردیا۔مظاہرین نے چودہ گھنٹے تک نیشنل ہائی وے بلاک رکھا جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا تھا،

غیر ملکی مہمانوں کو مبینہ طور پر شکار سے روکنے اور بدتمیزی کرنے کی پاداش میں قتل ہونے والے نوجوان کے ورثاء انصاف کے طلبگار۔۔۔۔مقتول ناظم جوکھیوکی تدفین کے بعدنیشنل ہائی وے کو دھابیجی کے قریب بلاک کیا اور نامزد ملزموں کی عدم گرفتاری پر دھرنا دیا

دن بھر قومی شاہراہ بلاک ہونے سے کراچی کا ٹھٹھہ، بدین اور سندھ کے دیگر شہروں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔۔۔کراچی سے باہر جانے اور کراچی آنے والے ٹریک پر سیکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں اور ان میں موجود ہزاروں مسافر رُل کر رہ گئے

دھرنے پر بیٹھے مظاہرین سے چودہ گھنٹے بعد مذاکرات کے لئے صوبائی وزراء سعید غنی اور امتیاز شیخ پہنچے اور طویل مذکرات کے بعد مظاہرین کو دھرنا ختم کرنے پر رضا مند کرلیا

مظاہرین نے دھرنا ختم کرتے ہوئے  رات گئے قومی شاہراہ کو ٹریفک کی آمد ورفت کے لئے کھول دیا اور گاڑیوں میں محصور ہوکر 15 گھنٹے گذارنے والے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا۔