تم کراچی چلے جائو

عمران عمران

تم کراچی چلے جائو

خواب ٹوٹنے کے بعد وہ  کوئی بھی بات کرنے سے پہلے گہری ٹھنڈی سانسیں  لینے لگاتھا، بات کرتے کرتے چپ ہوجاتاتھا، ایک دن مجھے  ایس ایم ایس  کیا ، عمران بہت پیسہ چاہیے، دل میں میری جتنی خواہشات ہے میں سب کو پورا کرنا چاہتا ہوں،میں نے کہا کہ کیا یار اب بھی کوئی ارمان رہتاہے کیا ؟ ہاں یار ایک خوبصورت سا گھر پھر ہنستے ہوئے کہنے لگا ایک دو اور شادیاں کرنا چاہتاہوں پھر ایک دم جیسے اس پر سکوت طاری ہوگیا ہو،پھر وہ تھوڑی دیر کے لیے بات کرتے ہوئے ٹہر سا گیا، میں نے فون پر کہا کیا ہوا ،چپ ہوگئے، نہیں یار اب یوں لگتاہے جیسے سب ختم ہوگیا ہے، کچھ بھی نہیں بچا ہے  سب بکھر کر رہ گیا ہے ہمیں تو اب کوئی سمیٹنے والا بھی نہیں رہا جب خواب ٹوٹتے ہیں کسی انسان کے اسے بےحد تکلیف ہوتی ہے پھر خواب بھی  ایسے شخص کے جس کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی ہوں ۔ میں نے کہا گھبرائو نہیں یار سب خیر ہوگا، وہ تھوڑی دیر پھر رک سا گیا ، پھر ٹھنڈی آہ لی پھر کہنے لگا، عمران یار تم بھی محنت کرکے تھک گئے ہوگےدن رات لگے رہتےہو ایک کام کرو جگہ بدلو، شاہد بہت اچھا ہو، تم کراچی چلے جائو جب تم کراچی میں ہوگے میں بھی تمھارے پاس آیا کرونگا  ، کوئٹہ میں اس سے ذیادہ تمہیں کچھ نہیں ملے گا ، کراچی میں بہت مارجن ہے کام کا تم کوشش کرو تم کرسکتے ہو مزید وقت ضائع کرنے سے پہلے تم میری بات غور سے سنو، چلے جائو کراچی اور نہیں تو دوںوں دوست مل کر اپنا پرائیوٹ پروڈکشن کا کام شروع کردینگے وہ اس دن اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ پشاور سے اسلام آباد آرہاتھا ، اس کے بولنےکا انداز کچھ یوں محسوس ہورہاتھا جیسے وہ مجھے آخری نصیحت کررہاہویا پھریوں محسوس ہورہاتھا جیسے مرنے  سے پہلے کوئی وصیحت لکھوا رہاہوں  جیسے ، انداز ایسا کے وہ اپنی نصیحتوں میں اتنا آگے نکل گیا تھا کہ بس تم جلدی کراچی پہنچو، میں نے کہا کہ اچھا کچھ کرتاہوں۔

ہم دوست تھے ہم میں کوئی تکلف نہیں تھا،بڑے سے بڑا مسئلہ کھل ایک دوسرے کو بتا دیتے تھے اس سے قبل کبھی اس نے مجھے کوئی نصحیت نہیں کی تھی ہاں جب وہ بےحد اداس رہتا تھا تو رات کو دو بجے تین بجے بلکہ رات  کاکوئی بھی پہر کو ایک ایس ایم ایس آتا تھا عمران جاگ رہے ہوتو میرا جواب ہوتا تھا ہاں سب خیر ہے، فون کرو! میں کہتا تھا اس میں پوچھنے کی کیا بات ہے فون کرو، کوئٹہ میں دسمبر اور جنوری میں شدید سردی پڑا کرتی تھی  جس میں درجہ حرارت منفی گیارہ سے اوپر چلا جاتا تھا پھر رات میں سردی ذیادہ محسوس ہوتی تھی  گھر میں کھل کر بات نہ کرنے کی وجہ سے مجھے اپنے فلیٹ سے نیچے جاکر کوئی ضروری معاملات پر بات کرنی پڑتی تھی تو میں شوز پہن کر جیکٹ مفلر اوڑھ کر نیچے کالونی میں اس کے ساتھ گھںٹوں گھنٹوں باتیں کیا کرتاتھا مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کرتے تھے، دوست بہت قریب تھا تو گھر والوں کو کسی قسم کی تشویش نہیں ہوتی تھی کہ یہ رات گئےکس سے بات کررہاہے اور بس میرا اتنا کہہ دینا کافی ہوتاتھاکہ ذیشان کا فون ہے میں بات کرکے آتاہوں۔

جس دن وہ پشاور سے اسلام آباد جارہاتھا وہ رات کا وقت تھا  میں کسی ڈاکومینٹری کے اسکرپٹ لکھنے میں مصروف تھاوہ اپنے دل کی تمام باتیں مجھ سے کہے جارہا تھا اور مجھے اسکرپٹ کی ٹینشن کہ جلد لکھ لو اور اپروو ہوتو جلد ہی اس پر کام کرسکوں وہ ڈاکومینٹریز پروڈکشن کے کام میں کبھی بھی میراحصہ دار نہیں رہا لیکن پورا کام ایسے ہی کرتاتھا  میرے ساتھ جیسے کہ اس کا خود کا اپنا کام ہو ، دوستی میں ہمارے درمیان کبھی بھی کسی بات پر اختلاف نہیں رہا، میں مصروف ہوتا تو تین تین ماہ گزر جاتے تھے بات نہیں ہوتی تھی لیکن جب بات شروع ہوتی تھی تو گھنٹوں گھنٹوں ہم بات کیا کرتے تھے۔اس رات والی بات شاید اس کے اورمیرے درمیان آخری بات ہو۔

ہماری یہ بات رات کو ہوئی تھی اس کے بعد ایک دن اس کے چھوٹے بھائی کا فون آیا اور کہنے لگا یار تمھارا دوست ہم سب کو چھوڑ کر چلا گیا میں ہنس دیا میں نے کہا کہ پاگل ہو کیا اس دن تو میری اور اس کی اتنی طویل بات ہوئی ہے سب ٹھیک تھا اس نے کہا کہ یاریہ کیا مذاق کی بات ہے ہم اس کی میت کو اسلام آباد سے پشاور لیکر جارہے ہیں ، ایسے لگا جیسے زمین پیروں سے سرک گئی ہوآسمان اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہودنیا کی تمام چیزیں ایک عجیب انداز میں چکراتی ہوئی نظر آئیں۔ اس دن میں شام کو گھر سے کھانا کھاکر دوبارہ آفس کی جانب جارہا تھا اس دن کوئٹہ میں  بہت بارش ہوئی تھی آسمان پر ابھی بھی کالے بادل تھے اور ٹھنڈی ہوائیں کافی تیز چل رہی تھیں آفس کے قریب پہنچے ہی مجھے یہ خبر ملی ۔پھر عموما ہم دونوں دوست اسی وقت ایک دوسرے سے بات کیا کرتے تھے کہاں ہو کیا ہورہاہے، میرا دل چاہ رہا تھا کہ آفس پہنچ کر اسے فون کرو لیکن پھر فون اٹھانے والے وہ ہاتھ اور وہ آواز وہ احساس اس فانی جہان سے کوچ کر گیا ۔

کراچی میں آئے مجھے تقریبا چار سال ہوچکے ہیں اس کے ترقی کے جانب جاتے سب راستے مجھے ہر پل اس کی یاد دلاتے ہیں۔

آج صبح ساڑھے پانچ بجے ایک دوست نے گھر سے اٹھایا کہ باہر ناشتہ کرینگے پھر تم  آفس چلے جانا راستے میں جیسے ہی روشنی ہونے لگی تو مجھے ذیشان بےحد یاد آیا کہ کاش وہ ہوتا تو اس شہر میں ہم کیا کچھ نہیں کرسکتے تھے لیکن جب سانس رکتی ہے تو سب ختم ہوجاتاہے وہ خواب و ہ خواہش اور وہ سوچ جو زندہ رہنے کی وجہ ہوتی ہے سب مٹی میں مل جاتی ہیں  پھر اس کی  آج وہ رک رک کر لمبی گہری سانس لیکر بات کرنے کی وجہ مجھے سمجھنے میں آنےلگی ہے۔