کراچی میں موسم سرما
کے آغاز کے ساتھ ہی آگ لگنے کے واقعات بھی کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔۔۔دس روز کے
دوران شہر میں آگ لگنے کے ایک سو سے زائد واقعات پیش آچکے ہیں جن میں شہریوں
بالخصوص تاجر برادری کو بھاری مالی
نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے
ایک کے بعد دوسری
آگ ۔۔۔خشک ہوا چلے اور موسم سرد ہونے لگے
تو کراچی میں آگ لگنے کے واقعات دوگناہوجاتے ہیں۔۔۔
رواں سال بھی کراچی
میں کچھ ایسی ہی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔۔۔آگ لگنے کا سب سے ہولناک واقعہ رواں
ماہ کی14تاریخ کو پیش آیا جب صدر کی معروف کوآپریٹیو مارکیٹ میں ایسے شعلے بھڑکے جو کئی سو دکانوں
کے ساتھ ہزاروں افراد کا روزگار جلا کر
راکھ کر گئے
شہر بھر کے فائر ٹینڈرز
نےمل کر کوآپریٹیو مارکیٹ میں لگی آگ پر قابو پایا جبکہ اس ہی روز کورنگی مہران ٹاؤن میں گودام سمیت چھ دیگر
مقامات پر بھی آگ لگی۔۔۔15نومبر کو بھی سائٹ ایریا میں فیکٹری سمیت 6مقامات پر
آگ لگنے کے واقعات پیش آئے
16نومبر کو کراچی میں بارہ مقامات جبکہ 17نومبر کو صدر وکٹوریہ مارکیٹ ،عزیز آباد کی گتہ فیکٹری
اور لانڈھی انڈسٹریل ایریا میں فیکٹری سمیت 17مقامات پر آگ لگی ۔کئی گھنٹے کی جدوجہد کے بعد فائر بریگیڈ کی 13گاڑیوں
اور دو اسنارکل نے کپڑے کی اس بڑی
مارکیٹ میں لگی آگ پر قابو پایا
18نومبر کو شہر میں
7مقامات جبکہ 19نومبر کو جوڑیا بازار کی چھالیہ گلی سمیت 20مقامات پر شعلے بھڑکے
۔۔۔20نومبر کوبھی شہر کے 16 مختلف مقامات
پر لگنے والی آگ سے محکمہ فائر بریگیڈ نبرد آزما ہوا۔ آگ نے تین ہٹی
کے قریب سیکڑوں خانہ بدوشوں کی جھگیوں
کے ساتھ پارکنگ پلازہ کے قریب پیٹرول پمپ
پر کھڑے ٹینکر اور ٹمبر مارکیٹ اور کورنگی میں لکڑی کے گودام اور مہران ٹاؤن میں
لگیج فیکٹری کو نقصان پہنچایا۔۔۔
21نومبر کو شہر میں
آگ لگنے کے 12 جبکہ 22نومبر کو 11واقعات
پیش آئے۔۔۔فائر بریگیڈ حکام کے مطابق 23نومبر کو بھی اب تک آگ لگنےکی 5 شکایات
پر محکمہ کا عملہ اور گاڑیاں آگ پرقابو پانےکے لئے روانہ کیاجاچکا ہے۔۔۔حکام کہتے ہیں کہ موسمی تبدیلی کے باعث آتشزدگی کے بڑھتے واقعات
میں خصوصی احتیاط کرکے ہی کمی لائی
جا سکتی ہے۔