عالمی اردو کانفرنس میں معروف لکھاری اصغر ندیم
سید کے ناول دشت امکاں پر بھی نشست سجی۔۔ ناول میں موجود مختلف کہانیوں سے جڑے
پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔۔ اصغر ندیم سید نے کہا کہ قصہ گو صرف قصہ تک نہیں رہتا۔
وہ عام سی بات بھی کہے تو کہانی بن جاتی ہے۔
اصغر ندیم سید نے کہا کہ آپ ناول پر تاریخ و
فلسفے کا بوجھ نہیں ڈال سکتے۔ مگر اسے دوسرے انداز میں ناول مین پیوست ضرور کرسکتے
ہیں۔۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ناول کے ذریعے انہوں نے
مرد اور عورت کے رشتے سے جڑی کہانی کو سمجھانے کی کوشش بھی کی ہے۔
اصغر ندیم سید نے کہا کہ قصہ گو ہی ہمارا ماڈل
ہے۔ بتایا کہ انتظار حسین کو فلم دکھائی۔ کیونکہ فلم صرف پاکستانی اور انڈین فلم
سے بالاتر ہے۔ ایک ادیب کو مصور سے صحبت کی ضرورت ہے۔
نظامت پر معمور عرفان جاوید نے کہا کہ اصغر ندیم
سید کا ناول فکشن اور فیکشن کا ملاپ ہے۔ اس حسین امتزاج میں عورت کے کومپرومائز
کرنے سے نا کرنے تک کی جھلک بھی دکھائی دے گی۔