تمہیں پتا ہےیہ جو دل ہے نا!


 تمہیں  پتا ہےیہ جو دل ہے نا!

کراچی، عمران

تمہیں پتا ہے! یہ ادھورے پن کا جو نشہ ہے نہ، یہ دنیا کی کسی شراب میں نہیں، اسے کے اپنے خمار ہوتے ہیں ، اس میں انسان زندگی بھر لڑکھڑاتا رہتاہے،ان یادوں میں، ان باتوں میں،ان لمحوں میں  اوران پلوں میں جو کئی سالوں سے  گزر جانے کے بعد  بھی اب وہی ٹہرے ہوئے ہیں۔

 ان کی مدہوشی کا الگ عالم ہوتا ہےسرور ہوتا  ہے،اس سرور سے کون کافر باہر نکلنا چاہتاہےکوئی بھی نہیں،اسے تم ایک ایساسفر کہہ سکتی ہو جس کا راستہ تو بہت کٹھن اور دشوار گزار ہے لیکن کوئی منزل نہیں۔

تم سوچتی ہوگی !میں ایسا کیوں کہہ رہاہوں؟ کس کےلیے کہہ رہاہوں؟

دیکھوں ہم سب ایک طرح کی زندگی گزارتےہیں ہمارا بچپن ، جوانی اور شادی پھر بچے گھر انکی شادی یہ زندگی ایک ری سائیکل پروسس میں چلتی ہے!

ہمارے یہاں یہ خیال زندگی تصور کیا جاتاہے شادی کے بعد انسان مکمل ہوجاتاہے،پھر بچے اور اصل زندگی کا تصور حقیقت گردانا جاتاہے۔

لیکن ایسا ہرگز نہیں ، مکمل صرف وہ ذات رہ سکتی ہے جس نے  دنیا کی سب سے خوبصورت فن پارہ دل تخلیق کیا ، پھر اس میں محبت  جیسے حسین جذبات کے رنگوں کو ایسے سینچا کہ جوڑے دیوانہ وار ایک دوسرے کی طر کھینچے چلے آئے۔

تمہیں  پتا ہےیہ جو دل ہے نہ! یہ بہت عجیب چیز ہےجب کوئی بات مان جائے تو ایک سیکنڈ نہیں لگاتا لیکن جب یہ کسی چیز سے انکار کرے تو پھر اسے کوئی نہیں منا سکتا۔

تم بھی سوچتی ہوگی آج یہ کیسا فلسفہ لیکر بیٹھ گیا ہوں !

یہ فلسفہ نہیں ہے میں تمہیں ادھورے پن کی دلکشی اور کیف وسرور سے ہمکنار کرنا چاہتاہوں، اس میں انسان کن کیفیات سے گزرتا ہے تمہیں سمجھانا چاہتاہوں ،

دیکھوں تم کیسے میرے ساتھ رہنا چاہتی تھی ان باتوں کا اظہار تم بار بار کرتی آئی ہو۔

لیکن کیا ایسا ممکن  ہوسکا نہیں نہ ، ابھی اس ادھورے پن میں وہ ملاقاتیں باقی ہیں جو ہم نے کرنے  تھیں، گھنٹوں گھنٹوں تم سے باتیں، ہاتھ پکڑ لمبی واک کرتے ہوئے، کسی بہترین جگہ پر  پھر کسی ایک ایسے جزیرے پر قیام کریں جہاں ہمیں کوئی جانتا نہ ہو ، لیکن دیکھوں یہ جو سب تم ادھورا چھوڑا گئی ہو یہی تو سب میں ہوں میری زندگی ہے ، ایسے بھلا کیسے کوئی مکمل کرسکتا کوئی بھی نہیں نہ پھر تم کیوں روز مجھے سوچنے بیٹھ جاتی ہو ؟