ماہ رمضان میں افطار دسترخوان پر ٹھنڈے ٹھارمشروبات ہرروزےدارکی طلب
ہوتی ہے اور ماہ صیام مین دیگر اشیاء کے
ساتھ مشروبات کوٹھنڈارکھنےوالی برف کی
مانگ میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔۔۔ رمضان
المبارک کاآغازہوتے ہی کراچی میں نہ صرف برف کارخانوں میں تیاری کا عمل تیز
ہوجاتا ہے بلکہ مانگ کو دیکھتے ہوئے نرخ
بھی بڑھادئیےجاتے ہیں
ماہ صیام اور افطار کا
اہتمام۔۔۔ ٹھنڈے مشروبات بڑھادیتے ہیں
دستر خوان کی شان۔۔۔ماہ مبارک کا آغا ہوتے ہی جہاں دیگر اشیاء کی مانگ بڑھ جاتی
ہے وہیں گرم موسم میں شہری ٹھنڈے مشروبات
کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں اور شہر بھر میں برف تیار کرنے والے کارخانوں میں بھی
آرڈرز بڑھ جاتے ہیں
برف تیار کرنےوالے کاریگروں کو ان دنوں سر کھجانے کی فرصت نہیں ہوتی۔۔۔
مالکان کہتے ہیں کہ بجلی کی بڑھتی قیمت
اور پانی کی قلت کے باعث مجبورا برف کی قیمت میں اضافہ کرنا پڑتا ہے
بجلی
نہیں ہے پانی نہیں ہے برف کا ریٹ نہیں مل پاتا جس کی وجہ سے بہت سے کارخانے بند
ہوگئے
40،40 ،50،50 ہزار بجلی کا بل ہوتا ہے یونٹ میں اضافہ جب ہوجاتا ہے وہ بل
کون بھرےگا
شہری کہتے ہیں کہ رمضان المبارک کے ایام مین پھل اور دیگر اجناس کے
ساتھ برف کے نرخ بھی بڑھ جانا تشویشناک
ہے،دوسری طرف برف فروش کہتے ہیں کہ عام دن کے مقابلے مین رمضان المبارک کے دوران برف کی ایک سل پر دو سو روپے تک اضافہ
ہوجاتا ہے جس کے باعث مہنگی فروخت کرتے ہیں
کارخانوں میں برف کی تیاری کا عمل بھی 40 سے 48 گھنٹے پر مشتمل ہوتا ہے اور
تیار ہوکر فروخت کے لئے نکلنے والی
برف کی ایک سل کا وزن تین من سے زائد ہوتا
ہے جسے ہر علاقے میں دکاندار اپنی مرضی سے چھوٹے ٹکڑوں کی صورت من مانی قیمتوں پر
فروخت کرتے ہیں شہری کہتے ہیں کہ ماہ صیام مین برف سمیت افطار مین استعمال ہونے والی دیگر اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومتی سطح پر مؤثر اقدامات کئے جائیں تو
ہوشربا مہنگائی میں انہیں کچھ ریلیف مل سکے گا ۔