پاکستان کی وزارت عظمی تین مختلف ادوار میں مسلم لیگ ن کے پاس رہی ۔
کراچی جس کا شمار ملک کے بڑے صنعتی شہروں میں ہوتا ہے ۔
وہاں
ان ادوار میں کونسے بڑے ترقیاتی منصوبے
شروع اور پایہ تکمیل کو پہنچے ۔
بحیثیت وزیر اعظم نواز شریف
پہلی بار انیس سو نوے سے انیس سو ترانوے تک اقتدار میں رہے ، اس دوران ان کی
توجہ سیاسی معاملات پر ہی مرکوز رہی ۔
یوں کراچی میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کی ذمہ داری سندھ حکومت اور
بلدیہ عظمی کراچی کے کاندھوں پر ہی رہی۔
انیس سو ستانوے سے انیس سو نناوے تک دوسری بار وزیر اعظم بننے والے
نواز شریف ۔موٹر وے اور خود روزگار اسکیم
منصوبوں کے ساتھ سامنے آئے
خود روزگار اسکیم کے تحت بنکوں نے پیلی ٹیکسیاں دیں تو کراچی کے شہریوں
کی بڑی تعداد نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھایا ۔
اسی
دور میں کراچی کو اضافی پانی کی فراہمی کے لئے کے ٹو اور کے تھری منصوبے کی بنیاد
بھی رکھی گئی۔
مسلم لیگ ن نے تیسری بار دو ہزار تیرہ میں حکومت بنائی جس نے اپنی
مدت دو ہزار اٹھارہ میں مکمل کی۔
بحیثیت
وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں ماس ٹرانزٹ منصوبے کی بنیاد رکھی ۔
وفاقی
حکومت نے منصوبے میں شامل گرین لائن کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا اور کراچی انفرااسٹریچر
ڈیویلپمنٹ کمپنی بنا کر منصوبے پر ترقیاتی کام شروع کیا
بعد ازاں اس وفاقی کمپنی کو سندھ انفرااسٹریچر ڈیویلپمنٹ کمپنی کا
نام دے دیا گیا ۔
اس کمپنی نے نارتھ ناظم آباد سگنل فری کوریڈور اور منگھوپیر روڈ کے
منصوبوں کو بھی مکمل کیا ۔
راچی کو 260 ملین گیلن پانی کی فراہمی کے منصوبے کا تعمیراتی کام بھی
اسی مدت میں شروع ہوا ۔