کراچی یونیورسٹی میں وین کے نزدیک خود کش دھماکہ۔
تین چینی باشندوں سمیت
چارافراد کی جان چلی گئی۔
چار افراد زخمی بھی ہوئے۔خودکش
دھماکہ خاتون نےکیا،،
جس کے لئے تین سے چار کلو بارود ی موا د استعمال کیا گیا۔
کراچی یونیورسٹی میں
وین کے نزدیک خودکش دھماکے کے
بعد آگ
بڑھ اٹھی ۔
آگ کے شعلے اور دھویں کے بادل دور دور سے دکھائی دے رہے تھے۔
پولیس اور
رینجرز کی نفری موقع پر پہنچ گئی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور
کاونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کی ٹیمیں
بھی آگئیں،، جنہوں نے شواہداکھٹے
کئے ۔
انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمرخطاب کا کہنا
تھا دھماکہ خود کش تھا،، جو خاتون
نےکیا۔باقاعدہ ریکی کےبعدحملہ کیاگیا۔
ہزاروں طلبہ وطالبات یونیورسٹی میں آتے ہیں روزانہ ہر ایک
کے ساتھ اگر تلاشی لی جاتی ہے تو مسئلہ ہے میں نہیں سمجھتا اس میں بہت بڑا سیکیورٹی
لیپس ہے یقینی طور پر چھوٹی موٹی چیز لانا مشکل کام نہیں آئی ڈی ڈیوائس نہیں تھی
خودکش حملہ تھا
کراچی پولیس چیف نے
کہا کہ کالعدم تنظیم کے دعوے پر تبصرہ قبل ازوقت ہے۔ جس خطے میں ہم رہتےہیں اور جیساہمارا
ماحول ہے ،،خطرہ توہے۔
یہ ٹیچر ہیں یہاں رہتے ہیں ان کی ٹرانسپورٹیشن تھی اپنے
انسٹیٹیوٹ میں اور ان کے ٹرانسپورٹیشن کے دوران یہ واقعہ ہوا اس میں اب تک کی
اطلاع کے ماطبق 4 جاں بحق اور چار زخمی ہوئے رینجرز کا اہلکار اور سیکیورٹی گارڈ
زخمی اور ایک چائنیز ہیں اس میں ٹوٹل چار
زخمی ہوئے ہیں
بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ابتدائی رپورٹ کےمطابق حملے کے لئے خودکش جیکٹ کا استعمال
ہوا۔ تین سےچارکلوبارودی مواداستعمال کیاگیا۔
دھماکہ کےمقام سے
بال بیرنگ اور بےشمارانسانی ریشےملےہیں۔
دھماکہ میں کمرشل بارود کا استعمال کیا گیا۔