سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے گستاخانہ بیان
کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کرلی۔
حکومتی اور اپوزیشن بینچوں سے بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ
بھی کیا گیا،
سندھ پبلک سروس کمیشن ترمیمی بل کے خلاف تحریک انصاف کے اراکین نے
اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرکے بل کی کاپیاں پھاڑ دی احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ
کرگئے ۔
سندھ اسمبلی کی کاروائی ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا ۔
وقفہ دعا کے بعد بی جے پی کے رہنماؤں کی جانب سے گستاخانہ بیان کے
خلاف قراردادیں پیش کی گئیں ۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے اراکین نے بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا
مطالبہ کیا
تمام پاکستانی ہندوستان کی جو مصنوعات یہاں آتی ہیں نہ صرف اس کا
بائیکاٹ کریں بلکہ اس کے آنے پر پابندی لگائی جائے
عبدلرشید بھارتی
مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے حکومتی سطح پر بھی اور مقامی سطح پر بھی عوام سے بھی
اپیل کرتا ہوں ہم نے جو اپنے بچوں کو اور نسلوں کو بھارتی فلموں کا گرویدہ بنایا
اور ان کے آئیڈیل انڈین اداکاروں کو بنارہے ہیں ان کو یہ بات سمجھنی چاہئے ہمارے
آئیڈیل رہبر رہنما سرکارد وعالم سرور کونین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں
صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے سندھ پبلک سروس کمیشن ترمیمی
بل پیش کیا تحریک انصاف کے اراکین نے بل کی
کاپی نہ ملنے پراحتجاج کیا پھر ایوان سے واک آؤٹ کرگئے
ایوان نے نصرت سحر عباسی کی جانب سے پیش کردہ اعتراضات کو مسترد کردیا
اور بل کو اکثریت سے منظور کر لیا
اجلاس میں سینٹر سکندر میندھرو اور حاجی انور مہر کے انتقال پر تعزیتی
قرار داد کے ساتھ پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ
سے متعلق بل منظور کیا گیا ۔
جس کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا گیا