سال دوہزاربائیس معاشی اعتبارسےہرگزرتےدن کےساتھ مشکل ترہوتا جارہا ہے ۔

عرفان علی عرفان علی

سال دوہزاربائیس معاشی اعتبارسےہرگزرتےدن کےساتھ مشکل ترہوتا جارہا ہے ۔

سال دوہزاربائیس معاشی اعتبارسےہرگزرتےدن کےساتھ مشکل ترہوتا جارہا ہے ۔

 انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں 2.20روپے اضافہ

انٹربینک میں ڈالر  210.10 روپے پر بند،ڈالر کی قیمت میں اضافےکا براہ راست  اثرمقامی مارکیٹ پردیکھا جا ئےگا۔

درآمدی اشیا کی قیمتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگا۔

بیلنس آف پیمنٹس۔۔  بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ۔۔ درآمدات کی بڑھتی شرح نےڈالرکومضبوط جبکہ روپےکوبےقدرکردیا۔۔

رواں سال کےآغازسے ہی ڈالرکی قیمت میں استحکام برقرارنہ رہ سکا۔۔ 2ماہ میں ڈالرکی قیمت میں 33 روپے46 پیسےتک اضافہ ہوگیا۔

نئی حکومت کے قیام کےبعد سے اب تک ڈالر28روپے80پیسےتک مہنگا ہوچکا ہے۔

رواں سال مارچ اور اپریل کے مہینے میں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک  زور پکڑ   گئی  جبکہ سیاسی جماعتوں  کی جانب سے الیکشن کا مطالبہ سامنے آیا ،،

جس کا اثر  سرمایہ کاروں پر پڑا،، اور ڈالر مہنگا ہونا شروع ہوگیا۔ ماہرین کہتےہیں کہ ڈالرکی قیمت کوفوری کنٹرول کرنا ضروری ہے۔

جنوری 22 میں ڈالر175 سے177 روپے  میں فروخت ہوا۔ فروری میں ڈالرکی قیمت معمولی کم ہوکر 174 روپےکی سطح پرآئی لیکن پھرمارچ کے اختتام  پر ڈالر 177 روپے47 پیسے پر رہا۔

اپریل میں ڈالر  188 روپے سے تجاوزکرگیا۔مئی میں ڈالرنےڈبل سنچری مکمل کی اب جون میں پہلی بار7 جون کو202 سےتجاوزکرتا کرتا

نئی تاریخی بلندی 212روپے کی سطح تک پہنچ گیا ہے

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر  کی قیمت میں 2.20روپے اضافہ ڈالر  210.10 روپے پر بند ہوا