سندھ ہائی کورٹ میں اسکیم 33 میں بجنور ہائوسنگ
سوسائٹی میں قبضہ کیس کی سماعت کے دوران
جسٹس حسن اظہار رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہےکہ سوچیں کس طرح پیسے جوڑ کر لوگوں
نے سرمایہ لگایا ہوگا ان غریبوں کو کیسے قبضہ دلوایا جاۓ گا ؟ سارے کے سارے غیر
ملکی یہاں آکر رہ رہے ہیں رپورٹ کررہے ہیں ساجداعوان
سندھ ہائی کورٹ میں اسکیم 33 میں بجنور ہائوسنگ
سوسائٹی کیس کی سماعت کے دوران سوسائٹی کی زمین تاحال واگزار نہ کرانے پر عدالت
برہم، جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ یہ بہت آسان طریقہ ہے قبضہ
کرو اور پھر عورتوں اور بچوں کو آگے کردو۔ عدالت نے استفسار کیاکہ وہاں ساری اسٹیٹ
ایجنسی کا کام چل رہا ہے دکانیں بنا کر بیٹھے ہوۓ ہیں۔جس پر ڈی سی ایسٹ نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے آپریشن
شروع کیا تھا لوگوں نے نقص امن کا مسئلہ پیدا
کیا پہلے مرحلے میں کمرشل تعمیرات کو سیِل کردیا گیا ہے جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی
نے استفسار کیا کہ سیل کرنے سے کیا ہوگا پاکستان میں قانون کوئی مانتا ہے ؟؟ وہ تو
دوبارہ سیل توڑ کر بیٹھ جائیں گے ، آپ پچاس ایف آئی آر کردیں کوئی فائدہ نہیں ،
کتنوں کو گرفتار کرکے جیل بھیجا ؟ڈپٹی کمشنر نے عدالت کو بتایاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد مانگی گئی مگر نفری نہیں ملی ۔ جسٹس حسن
اظہر رضوی نے استفسار کیاکہ قبضہ مافیا کے خلاف کوئی تو مثال قائم کریں؟
پولیس کس کام کیلئے ہے ؟ پولیس کیوں نہیں کرسکتی
؟ کیا پولیس صرف ڈنڈے لے کر جاتی ہے ؟ ڈپٹی کمشنر شرقی کو آئندہ سماعت پر کارروائی
کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت سماعت 6 دسمبر تک ملتوی کردی گئی