پاکستان اور سوئڈن کے درمیان تحویل مجرمان کا معاہدہ نہ ہونےکےسبب ملزم خرم کی واپسی سوالیہ نشان بن گئی؟
ملزم کی گرفتاری اورپاکستان حوالگی اس ہی وقت ممکن ہے جب جرم پاکستان اور سوئڈن میں برابرتسلیم کیاجائے۔
سویڈش قانون کے مطابق ملزم پر سزائے موت کااطلاق بھی نہیں ہوگا۔
ملزم خرم کوفرارکروانےمیں مبینہ طورپرکرداراداکرنےوالےرشتہ دارکاویڈیوبیان بھی سامنےآگیا۔
کراچی میں فائرنگ کرکےپولیس اہلکارکوقتل کرنےکےبعدبیرون ملک فرارملزم خرم کوواپس لانےکےلیےپاکستان اور سوئڈن کےدرمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے۔
بیرون ملک سے ملزم کو واپس لانے کے لئےدونوں ممالک کے مابین تحویل مجرمان کا معاہدہ لازمی شرط ہے۔
تحویل مجرمان کا معاہدہ نہ ہونے کے باوجود سوئڈن کے قانون میں شرائط کے ساتھ گنجائش موجود ہے۔
جس میں جرم دونون ممالک میں مساوی حیثیت رکھنےکےساتھ ایک سال کی سزابھی دی جائے۔
سوئڈش قانون کے مطابق اگر کسی شخص کو سزا سنائی دی جائے تومجرم کو اس ملک کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔
تاہم ملزم سےمخصوص جرم کےعلاوہ دیگرکسی سے متعلق تفتیش نہیں کی جاسکتی۔
سویڈن قانون کےمطابق ملزم کو سزائےموت بھی نہیں سنائی جاسکتی ہے۔
پاکستان اور سویڈش حکومت کے درمیان سرمایہ کاری،ٹیکس اور فضائی حدودکےمعاہدے طےہیں۔
سوئڈن قانون کےمطابق سیاسی اور ملٹری جرائم میں ملزم کی حوالگی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
پاکستان میں کسی شخص کی غیر موجودگی میں سزا سنائے جانے کے فیصلوں میں پیچدگیاں موجودہیں۔
ملزم خرم نےپیراورمنگل کی درمیانی شب ڈیفنس کراچی پولیس اہلکاروں کی جانب سے روکےجانےکےبعد دوران تکرارفائرنگ کرکے پولیس اہلکار کوقتل کردیاتھا۔