کراچی میں آٹےکی فی کلوقیمت تاریخی بلندی پر

عرفان علی عرفان علی

کراچی میں آٹےکی فی کلوقیمت تاریخی بلندی پر

کراچی میں آٹےکی فی کلوقیمت تاریخی بلندی پرپہنچی،، توہوٹل مالکان نےبھی روٹی کی قیمت بڑھادی۔ چپاتی 3 اور  تندوری  روٹی 5 روپےتک مہنگی کردی گئی۔

 شیرمال، تافتان اورروغنی نان کی قیمتیں بھی من مانی وصول کی جارہی ہیں۔

 قیمتوں میں کتنا اضافہ کیا ۔

مہنگائی سےپریشان شہریوں پرایک اوراضافی بوجھ ۔

 شہر  میں روٹی کی قیمت ایک ساتھ 5 روپے تک بڑھادی گئی ۔

 قیمت کہیں 22 توکہیں 25 روپےتک وصول کی جارہی ہے۔چپاتی کی قیمت  3 روپےبڑھا کر 15 روپے تک کردی گئی۔

بہت پریشانی ہورہی ہےکیونکہ ہمارےہاں کوئی قانون نہیں ہےجسکا جودل کرتا ہےوہ ریٹ بڑھادیتا ہے،،کیونکہ یہ لوگ بھی کہاں سےسستا بیچیں،،25 روپےلینی مجبوری ہےآٹا150 روپےکلوہوگیا ہے

بہت مشکل ہوگئی ہےصرف آٹا ہی نہیں ہرچیزمہنگی ہوگئی ہےحد ہوگئی مبلب انھوں نےجوکیا تھا وہ کیا ہی تھا انھوں نےتوبالکل جوآخری جوکیل ہےوہ ٹھوک دی ہے

ہوٹل مالکان کا کہنا ہےکہ گیس   کی قیمت بڑھنے کے بعد ،،، اب آٹا تاریخی مہنگا ہونےسے روٹی کی قیمت  میں اضافہ کرنا پڑا۔

روٹی کا 25 روپےچپاتی کا 15 روپےریٹ ہوگیا ہےآٹا بہت مہنگا ہوگیا ہے،7250 روپےکا ہوگیا بہت مہنگائی ہےبل بھی زیادہ آرہا ہےگیس کا بل بھی زیادہ آرہا ہےبجلی کا بل بھی زیادہ آرہا ہےاورآٹا بھی بہت مہنگا ہوگیا ہے

ادھرشیرمال ہاؤسزوالوں نےشیرمال اور  تافتان کی قیمت میں ایکساتھ 5 سے 10روپےتک اضافہ کردیا۔۔ شیرمال تافتان کہیں 60 توکہیں 70 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔

 روغنی نان کی قیمت میں بھی 10 روپےبڑھادئیےگئے۔ روغنی نان 80سے90 روپےمیں فروخت کیا جارہا ہے۔

گزشتہ سال مئی کےمہینےمیں پہلی بارگیس مہنگی ہونےپرروٹی کی قیمت میں اضافہ کیا گیا تھا۔

ایک سال کےدوران تندوری روٹی 10، چپاتی 8، افغانی نان 8 روپےتک مہنگاہوچکا ہے،،خریدارکہتےہیں ایک بارقیمت میں ہونیوالےاضافےکودوبارہ کم نہیں کیا جاتا۔