کراچی عالمی سندھی بولی کانفرنس

عرفان علی عرفان علی

 کراچی  عالمی سندھی بولی کانفرنس

پاکستان میں  مادری  زبانیں نہ صرف اپنا خوبصورت لہجہ بلکہ اپنی منفرد مٹھاس بھی رکھتی  ہیں۔

 انہی زبانوں میں چھپی اپنائیت کی خوشبو اور عصر حاضر  کے چیلنجز کے حوالے سے کراچی میں سندھی  لینگوئج کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

اپنے خیالات اور احساسات کو بیان کرنے کےلیے زبان ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس میں ہم ابلاغ کرتے ہیں۔

 زبان کو ثقافت کی روح کہا جاتا ہے۔ کراچی میں عالمی سندھی بولی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا

جس میں مقررین نے زبان کے رسم خط ، تلفظ اور دور حاضر کے چیلنجز  پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔

اگر آپ زبان سیکھتے ہیں تو اس وقت طاقت کے شعبوں میں استعمال ہو رہی ہے پھر تو آپ اس میں داخل ہوسکتے ہیں ورنا آپ دس زبانیں بھی جانیں لیکن اگر وہ طاقت کے شعبے میں استعمال نہیں ہو رہی تو آپ طاقت کے شعبے میں نہیں آسکتے

چیئرمین سندھی  لینگوئج  اتھارٹی ڈاکٹر اسحاق  سمیجو نے کہا کہ کبھی بھی مقامی زبانوں کے فروغ کے لیے رویے درست نہیں رہے ۔


سندھی زبانوں کو دیگر مادری زبانوں کے ساتھ جوڑنے کا مقصد ہے کہ ہمارے معاشرے میں مادری زبان کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اس رویے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے


ڈائریکٹر جنرل کلچر ڈیپارٹمنٹ  منور مہیسر  کا کہنا تھا  کہ زبانیں ہمیں آپس میں جوڑتی  ہیں ۔

دنیا میں بولی جانے والی زبانوں  کو بجائے مقابلے کی فضاء قائم کرنے کے ان میں ہم آپ آپ آہنگی پیدا کی جائے

کانفرنس میں مقررین نے زبانوں  کی  طاقت اور آپس میں جوڑنے کی صلاحیت کواجاگر کیا۔


وزیر ثقافت و تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی عالمی سندھی بولی کانفرنس میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت۔

کانفرنس کا اہتمام عالمی مادری زبانوں کے دن کے سلسلے میں “سندھ لینگویج اتھارٹی” کی جانب سے کیا ہے۔

دو روزہ عالمی سندھی بولی کانفرنس آرٹس کاؤنسل آف پاکستان کراچی میں منعقد کی گئی

کانفرنس میں سندھی لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اسحاق سمیجو، نامور اسکالر ڈاکٹر ذوالفقار کلہوڑو، ڈاکٹر فہمیدہ حسین، ڈاکٹر عبدالرزاق چنا، ڈاکٹر طارق رحمان، عالمی اسکالر ڈاکٹر مشل بوول کی شرکت

کانفرنس میں سندھی اور پاکستان کے دیگر زبانوں نے دانشوار، ادیب، اسکالرز اور لینگویسٹک کے ماہرین شریک

عالمی سندھی بولی کانفرنس کانفرنس میں 30 کے قریب مکالے پڑھے گئے

وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ زبان کی ترویج کے سلسلے میں اداروں کو کام کرنے میں کافی مشکلات درپیش ہیں وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہاکہ زبانوں کو بچانے کے لیے وفاقی حکومت کو کردار ادا کرنا ہوگا۔


 

پاکستان میں مادری زبانوں کے سلسلے میں وفاق کا رویہ غیر سنجیدہ ہے

ہم بشمول تمام اسٹیک ہولڈرز اپنے وسائل کی بنیاد پر سندھ میں زبان کی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

سندھی لینگویج اتھارٹی کے بورڈ آف گورنرز کی کمیٹی تشکیل دی جاۓ، ہم ساتھ دیں گے۔

کمیٹی اسکولز میں سندھی پڑھانے اور زبان کی ترقی کے حوالے سے تجاویز پیش کرے۔

بدقسمتی سے ملک میں بولی جانے والی اہم زبانوں کو قومی زبان قرار دینے کا بل منظور کرنے میں بھی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

انڈس اسکرپٹ کو سمجھنے کے لیے 2018 میں موہین جو دڑو پر ورکشاپ منعقد کیا گیا۔

پیپلز پارٹی اس حق میں ہے کہ وہ سندھی کے ساتھ ملک میں بولی جانی والی اہم زبانوں کو قومی زبان کا درجہ ملے۔

پیپلز پارٹی کے لئے بڑا چیلینج ایوان میں بیٹھی دیگر پارٹیوں کو راضی کرنا ہے۔

وفاق نے نیشنل ہیریٹیج کی وزارت اپنے پاس رکھی ہوئی ہے، اس کو کئی بار خط لکھ چکا ہوں کہ ہماری مدد کریں۔

دنیا بھر میں انڈس اسکرپٹ پر ہونے والی تحقیق کو یکجا کر کے لینگویج اتھارٹی کو جامع کام کرنا پڑے گا۔

مصر کا اسکرپٹ پڑھنے میں اس لیے آسانی کوئی کہ اس کا ایک مکمل پیراگراف ملا جس پر تحقیق ہوئی۔

وادی سندھ میں کوئی ایک ساتھ اسکرپٹ پیراگراف کی صورت میں نہیں مل سکا۔

ماہرین کے نزدیک انڈس اسکرپٹ کو سمجھنے کے لیے مزید کھدائی کرنی پڑے گی جو کہ ایک طرح سے مزید مشکل کام ہے۔

موہین جو دڑو سائیٹ اس قابل نہیں کہ اس کی مزید کھدائی کی جاۓ جب کہ پہلے ہی موسمی تبدیلیوں کا سامنا ہے۔

چاہوں جو دڑو پر کام جاری ہے۔

محدود وسائل کے باوجود موجودہ سندھ میں آرکیالاجیکل سائیٹس پر کھدائی اور تحقیق کا کام جاری ہے۔

ملک کے دیگر ہیریٹیج سائیٹس پر کوئی سنجیدہ کام نظر نہیں آتا۔

انڈس اسکرپٹ کو سمجھنے کے لیے وادی سندھ کی تمام سائیٹس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

کشمیر کے مندا سے کام شروع کرنا ہوگا۔

تمام سائیٹ پر کام کرنے سے ممکن ہے کہ کوئی ایسا اسکرپٹ مل جاۓ جس کو ہم مستقبل میں پڑھ سکیں۔

موہین جو دڑو پر یونیسکو کی طرف سے اجازت نہیں ہے کہ اس کی مزید کھدائی کی جاۓ۔

آئین کا آرٹیکل 25 اے بچوں کو بنیادی مفت تعلیم دینے کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔

عجیب بات کے کہ پرائیویٹ اسکولز آرڈیننس 2001 کے تحت فیس لینے کی اجازت کے ساتھ پرائویٹ اداروں کو پڑھانے کی اجازت دی گئی۔

سرکار کے پاس وسائل نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی بنیادی تعلیم کا کام پرائیویٹ ادروں کو دے دیا گیا

سندھ میں اس وقت 15 ہزار پرائیویٹ اسکولز رجسٹرڈ ہیں جبکہ غیر رجسٹرڈ بھی شامل ہیں۔

پرائیویٹ اسکولز کی خراب حکمت عملی کی وجہ سے پچے اپنی مادری زبانوں سے دور ہو گئے ہیں۔

سندھ میں محکمہ تعلیم کی طرف سے پرائیویٹ انسٹیٹیوشز کی سینسز کی جا رہی ہے۔

اسکولز میں سندھی زبان پڑھانے کے حوالے کافی چیلیجز درپیش تھے۔

پرائیویٹ اسکولز کی بڑے ناموں نے بمشکل ہماری بات کو تسلیم کیا، اور سندھی زبان نے اساتذہ رکھنے شروع کیے۔

اگلا چیلینج ہمارا یہ تھا کہ جو اساتذہ رکھے گئے ہیں وہ زبان کے سبجیکٹ پڑھانے کے طریقیکار کا کتنا جانتے ہیں۔

سندھ زبان پڑھانے کے سلسلے میں پرائیویٹ اداروں کے سندھی سبجیکٹ ٹیچرز کی ٹریننگ کی ضرورت محسوس کی گئی

اس ضمن میں محکمہ تعلیم سندھ نے سندھی لینگویج ارتھارٹی کے ساتھ مل اساتذہ کی ٹریننگ کے لیے لائحہ عمل تیار کیا ہے۔

سندھی زبان پڑھانے والے اساتذہ کی ٹریننگ کے لیے یونیورسٹیز اور دیگر اسٹیک ہورڈلز کو آگے آنا ہوگا۔

پڑہانے کے لیے ٹیچنگ میتھاڈولاجی اور پیڈاگوجیکل نالیج ہونا لازمی ہے۔

عالمی سندھی بولی کانفرنس میں سندی لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اسحاق سمیجو، ڈاکٹر ذوالفقار کلہوڑو، ڈاکٹر فہمیدہ حسین، ڈاکٹر عبدالرزاق چنا، ڈاکٹر طارق رحمان، عالمی اسکالر ڈاکٹر مشل بوول اور دیگر نے سندھ زبان پر تحقیقی نقطہ نذر پیش کیا۔