کراچی میں ہنی ٹریپ کا شکار ایس ایس جی سی کے چیف میڈیکل آفیسر کا اغواء کاروں کے ہاتھوں قتل کا معاملہ ۔
پولیس نے ڈاکٹر رحم علی شاہ کی لاش ٹھکانے لگانے والی خاتون نرس سمیت مزید تین ملزم گرفتار کرلئے پولیس حکام کے مطابق سرکاری اسپتال کی خاتون نرس، شوہر اور مزید ایک ملزم سمیت کیس میں گرفتاریوں کی تعداد7 ہوگئی ۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ گرفتار خاتون نرس اور شوہر نے لاش اسپتال پہنچانے اور چھوڑ کر فرار ہونے میں اہم کردار کیا تھا ۔ پولیس نے گرفتار ملزموں سے مقتول کے دونوں موبائل فونز بھی برآمد کرلئے ۔
پولیس کے مطابق مقتول ڈاکٹر کوہنی ٹریپ کرنے والی ملزمہ کے زیر استعمال موبائل فون بھی پولیس نے برآمد کرلیا ۔
گرفتار ملزموں نے مقتول ڈاکٹرکو زبردستی شراب پلانے اور اے ٹی ایم کارڈلینےکا اعتراف کیا ۔
تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ مقتول ڈاکٹر رحم علی شاہ کے بینک اکاونٹ سے ایک لاکھ 60 ہزار روہے بھی نکلوائے گئے ۔
ڈاکٹر رحم علی شاہ پر تشدد ہوا موت سر پر ڈنڈے کے وار سے ہوئی، قتل میں ملوث گروہ کے سرغنہ سمیت متعدد ملزموں کی گرفتاری تاحال نہ ہوسکی ۔
سوئی سدرن گیس کمپنی کے چیف میڈیکل آفیسر کو 6 جولائی کو مبینہ اغواء کے بعد قتل کردیا گیا تھا ۔
ڈاکٹر رحم علی شاہ کی لاش ورثاء کو دو روز بعد سہراب گوٹھ سرد خانہ سے ملی تھی ۔