فاطمہ فرڑو کانفرنس نم آنکھیں ،سسکیاں،مائیں روتی رہی

عمران عمران

فاطمہ فرڑو کانفرنس نم آنکھیں ،سسکیاں،مائیں روتی رہی

فاطمہ فرڑو کانفرنس نم آنکھیں ،سسکیاں،مائیں روتی رہی 
سکھر میں فاطمہ فرڑو کانفرنس کا انعقاد کیا گیا 
مقتول اور لاپتہ افراد کی مائوں کی بڑی تعداد میں شرکت 
سندھ ویمن ایکشن فورم نے صنفی تشدد کے خلاف ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا 
جس میں ماہر قانون ،سماجی رہنما،صحافی، ڈاکٹر، پروفیسرز ماہر تعلیم ادیب شاعر ویگر نے بڑی تعداد میں شرکت کی
کانفرنس میں براہ راست تشدد کا شکار بننے والے افراد کے اہل  خانہ خصوصی طور پر مائوں کی بڑی تعداد شریک ہوئے اپنی داستان بتاتے ہوئے روتی رہی 
بچیوں کے تشدد بیٹیوں کے اغوا کے بعد تا حال لاپتہ ہونے کے دکھ کے نوحے پڑھے گئے
سندھ ویمن ایکشن فورم کی رہنما امر سندھو نے کانفرنس کو لائیو یعنی براہ راست سوشل میڈیا کے پیج فیس بک پر آن ایئر کئے رکھا
پولیس افسر ڈپٹی انسپیکٹر جنرل آف پولیس  ڈی آئی جی پی سکھر عبد الحمید کھوسو ایس ایس پی عرفان سموں سمیت فاطمہ فرڑو کے وکیل بھی کانفرنس کا حصہ بنے
سندھ میں امن وامان کی مخدوش صورتحال پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان بیٹیوں چھوٹی بچیوں کو اغوا ذیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن انہیں سزائیں  نہیں ملتی ہم کہاں کم زور ہے کون جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرتا ہے 
سندھ ویمن ایکشن فورم کی رہنما امر سندھو نے کہاکہ زمانہ جہالیت میں بھی ایسا نہیں ہوتا جو اب سندھ میں ہو رہا یہ کیسے لوگ ہے کیا انکا ضمیر اور دل کیسے انہیں سکون کی نیند سونے دیتا ہے 
ماہر تعلیم اور سماجی رہنماڈاکٹر عرفانہ ملاح نے کہاکہ لوگ لب کشائی کیوں نہیں کرتے حق پر کھڑے کیوں نہیں ہوتے خاموش قربان ہونے کو تیار ہے اپنے حق کےلیے لڑنا ہوگا ورنا کوئی سانس بھی یہاں لینا محال ہے ایسے معاشرے کا ہم سب حصہ ہیں 
ذکیہ اعجاز نے کہا کہ اب محروم طبقے کےلیے صدائے حق بلند کرنے کی ضرورت ہے دیگر مقررین نے کہاکہ سندھ کا شعور جاگ گیا تو کوئی کسی کی حق تلفی سمیت ذیادتی نہیں کرسکتا