کوئٹہ

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

 کوئٹہ

کوئٹہ

 

 محسن شکیل

 

کیوں بھلا شہر میں عشاق ہوئے کم کوئٹہ کے

اِس پہیلی سے ہیں الجھے کئی غم کوئٹہ کے

کوئٹہ شہر نہیں تھا، یہ محبت تھی کوئی

جس سے سرشار تھے سب اہلِ کرم کوئٹہ کے

خشک میووں میں بسی رہتی تھی دلداریِ بزم

سرمئی شام سے آمیز تھے غم کوئٹہ کے

پھر وہ خاموش محبت ہی کہیں روٹھ گئی

جس کی الفت میں گرفتار تھے ہم کوئٹہ کے

گاہ بہ کچھ حرف و سخن' گاہ بہ کچھ اشکِ رواں

کرتے رہتے ہیں فسانے کو رقم کوئٹہ کے

شہر در شہر لیے پھرتے ہیں اِس یاد کی لو

ساتھ رکھتے ہیں بہت نقشِ قدم کوئٹہ کے

اِن کو آداب ' اِنھیں ڈھیر خراجِ تحسیں

رکھ رہے ہیں جو کئی لوگ بھرم کوئٹہ کے

رسمِ تریاق و شبِ غم کو نبھانے محسن

اب تو عشاق ہی ہوتے ہیں بہم کوئٹہ کے