پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کی خواتین کامخصوص نشستوں پر تحفظات اور پارٹی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کی خواتین کامخصوص نشستوں پر تحفظات اور پارٹی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

ہم نے 25 دسمبر سے قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے آئینی و جمہوری فلسفے بیگم نصرت بھٹو کی جمہوریت کے لئے قربانیوں اور دنیا بھر کی عظیم قائد شہید جمہوریت دختر مشرق کی جاگیر دارانہ نظام ظلم جبر نا انصافیوں حقوق کے غاصبوں اور پارٹی جیالوں کے حقوق کے لوٹیروں کے خلاف تاریخی جدوجہد انکی تربیب اور وصیت کے عین مطابق بھرپور احتجاج اور دھرنا شروع کرنے کا آغاز کیا ہے 


ثناء درانی

عام انتخابات می  پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کا خواتین کی مخصوص نشستوں کے سفارشی من پسند رشتہ دارانہ اور میرٹ کی دھجیاں اڑاتے لسٹ کے خلاف پارٹی خواتین کے کل سے 25 دسمبر سے شروع احتجاج کے اگلے مرحلے میں احتجاج پر بیٹھی خواتین جن میں ثناء درانی، پروین مینگل محمودہ نسرین عابدہ بلوچ حنا گلزار ساجدہ بنگلزئی نرگس مصطفی و دیگر پارٹی خواتین نے کوئٹہ میں الیکٹرونک پرنٹ و سوشل میڈیا صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے چئیرمن امید پاکستان جناب بلاول بھٹو زرداری کوچئیرمین مرد حر جناب آصف علی زرداری مرکزی جنرل سیکرٹری نئیر بخاری شعبہ خواتین کی مرکزی صدر آدی فریال تالپور سے درجہ زیل مطالبات باقاعدہ صوبائی قیادت کو کل لکھ کر دیے تھے جس میں ہمارا پہلا مطالبہ یہ کہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے لئے اس ترجیحی لسٹ سے غیر متعلقہ غیر نمائندہ من پسند رشتہ دار خواتین کو فلفور نکال کر پارٹی کی حقیقی کارکن سئنیر خواتین اقلیتیی برادی کو نمائندگی دیکر صوبائی جنرل سیکریٹری کے دستخط سے نئی لسٹ جلد از جلد جاری کی جائے جبکہ ہمارا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ  ویمن وینگ کی صوبائی صدر جو پارٹی کی خواتین کے مجموعی پارٹی حقوق کے دفاع میں بری طرح ناکام ہوئی ہیں اور دونوں قومی و صوبائی فہرستوں میں اپنے آپ کو پہلے نمبر پر رکھ کر انھوں نے لالچ خود غرضی اور تمام صوبائی وینگ کی خواتین کی محض اپنے سیٹ کے لئے قربانی دیکر داغ دار مثال قائم کی ہے جس کے خلاف ہمارا مطالبہ ہے کہ پارٹی کے لے انکے خدمات کے بدلے صرف قومی اسمبلی کی نشست دی جائے اور انھے صوبائی لسٹ سے فلفور نکال کر انھے صوبائی وینگ کے عہدے سے بھی برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے  اور پقرے وینگ کو از نو تشکیل دیا جائے۔

 ثناء درانی اور دیگر خواتین نے اپنے تیسرے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کا پارلیمانی بورڈ جو ابتک غیر فعال غیر زمیدار ثابت ہوا ہے اسکی فوری و دوبارہ تشکیل کرکے جنرل نشستوں پر تمام امیدواروں کے پروفائل پارٹی خدمات اور انٹرویوز کے بعد اور باہمی مشاورت سے میرٹ لسٹ بنانے کی احکامات جاری کیے جائیں تاکہ پارٹی انتشار سے بچ جائے اور عام انتخابات میں یکسوئی و اتفاق سے میدان میں اترے اور ہم الیکشن میں بھرپور کامیابیاں حاصل کریں۔

 ثناء درانی نے یہ بھی کہا کہ تمام صحافی برادری نوٹ اور ریکارڈ پر رکھے کہ مخالفین ہمارے دھرنے اور احتجاجی کی اڑ میں ہماری پارٹی اور قائدین کے خلاف مختلف  الزامات کو ہمارے دھرنے سے جوڑنے کی کوششیں کی جاری ہیں اور اپنے آپ کو مظلوم بناکر موقع سے فائدہ اتھاکر لسٹوں میں اپنی جگہ بنانے کی لاحاصل کوشیش کرریے ہیں جو سراسر غلط اور من گھڑت ہیں اس حوالے سے جتنے بھی بیانات ہماری احتجاج پر بیٹھی موجود خواتین کے  علاؤہ آرہی ہیں اسے ہم سے منصوب نا کیا جائے۔

ہمارا دھرنا کسی مخصوص مرکزی و صوبائی عہدیدار کے خلاف نہیں بلکہ ان تمام زمیداروں کے خلاف ہے جنھوں نے ہمارے حقوق کی بندر بانٹ کی جھنون نے راتوں رات اپنے من پسند لسٹ بناکر انجان غیر متعلقہ غیر صوبائی عہدیداران اڑان تشتری پر آئی ہوئی سفارشی خواتین کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔

 پارٹی کی خواتین نے کہا کہ اگر ہمارے یہ مطالبہ جو صرف اور صرف پارٹی کے آئین منشور جمہوری روایات ورکرز کی مجموعی مفادات اور اپنے عظیم قائد شہید جمہوریت محترمہ بینظیر بھٹو کے فلسفہ جدوجہد کے عین مطابق اورصوبائی قیادت کے عزت وقار اور احترام کی بحالی کے لئے ہیں ان پر عمل نہیں ہوتا تو مجبوراً ہم اس حوالے سے مزید سخت لائحہ عمل کا اعلان کرینگے لیکن پارٹی بی بی شہید کے نظریے اور اپنے لاڈلے بھائی و چئیرمین جناب بلاول بھٹو زرداری کا ساتھ کبھی بھی نہیں چھوڑنگے حالانکہ اس حوالے سے ہم سب سمیت سینکڑوں دیگر خواتین نے اپنے استفے  ثناء درانی کے پاس پہلے سے جمع کر کے رکھ دیئے ہیں۔