سندھ کے 13 وزراء ، 15 معاون خصوصی اور 5 مشیروں
پر مشتمل کابینہ کی تشکیل نو مکمل کرلی گئی۔
سندھ کابینہ میں شامل ہونے والے چار نئے وزرااور
تین مشیروں نے گورنر ہاوس میں منعقدہ تقریب میں حلف اٹھایا۔گورنر
سندھ عمران اسماعیل نے جام خان شورو،ساجد جوکھیو ، گیان چند اور ضیاء عباس شاہ
سے صوبائی وزیر کی حیثیت سے حلف لیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے وزراکے قلمدانوں میں بھی بڑی
تبدیلیاں کردیں۔ صوبائی وزیرتعلیم سعید غنی تیسری مرتبہ وزارت تبدیل ہونےکےبعد ایک
باپھروزیر اطلاعات بنادئے گئے ہیں اُن کےپاس محنت و افرادی قوت کااضافی قلمدان بھی ہوگا۔پیپلزپارٹی سندھ کےصدر نثار
کھوڑ کابینہ سے نکال دئے گئےاُن کی جگہ اسماعیل راہوکوبورڈ آف یونیورسٹیز،ماحولیات
اور ساحلی ترقی کےقلمدان سونپ دئےگئے۔وزیراطلاعات ناصر شاہ کےپاس اب بلدیات،
ہاوسنگ اور ٹاون پلاننگ اورپبلک ہیلتھ انجنیرننگ کی وزارتیں ہونگی۔ سعید غنی
سے تعلیم کی وزارت لےکرسیدسردار شاہ کودوبارہ دے دی گئی ہےاُن کے پاس سیاحت اور
کلچرکےاضافی قلمدان بھی ہونگے۔مخدوم محبوب
ریونیو کےصوبائی وزیر جبکہ تیمور تالپورجنگلات کے صوبائی وزیر ہونگےاکرام
اللہ دھاریجو بھی صنعت وتجارت کی وزارت کو
دیکھیں گے۔ کابینہ میں شامل ہونے والےساجد جوکھیو سماجی بہبود،گیان چنداسرانی اقلیتی
امور،ضیاعباس شاہ ورکس اینڈسروسزجبکہ جام خان شوروکو وزیرآبپاشی کا قلمدان سونپ دیاگیا۔
ہری رام سے خوراک کا قلمدان لےکر مکیش کمار چاولہ کو سونپ دیاگیا اُن کے پاس ایکسائزاور
ٹیکسیشن کی وزارت پہلے سے موجود تھی۔ ہری رام کو کابینہ سے فارغ کردیاگیا۔ شبیر علی
بجارانی کو مائنز اینڈ منرلز کا قمدان سونپ دیا گیا
پیپلز پارٹی نے 20 غیر منتخب رہنماؤں کو بھی کابینہ
میں شامل کرلیا ۔5مشیروں میں سےایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب مشیرقانون ہونگے۔
اعجازجاکھرانی مشیر جیل خانہ جات،منظور وسان محکمہ زراعت کےمشیرہونگے سابق وزیر
اعلی سندھ ارباب غلام رحیم سے مقابلے کے لئے انکے بھتیجے ارباب لطف اللہ کو کابینہ
میں شامل کرلیا گیا ۔کراچی کے 10 جیالے رہنماء وزیر اعلی کے معاون خصوصی بن
گئے۔لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے سہیل انور سیال اور نثار کھوڑوکو کابینہ سے فارغ
کردیاگیا