پولیس حکام کے بلندوبانگ دعووں کے باجود اسٹریٹ کرائم کی صورتحال میں بہتری نہ آئی

عرفان علی عرفان علی

پولیس حکام   کے بلندوبانگ دعووں کے باجود  اسٹریٹ کرائم   کی صورتحال میں بہتری نہ آئی

پولیس حکام   کے بلندوبانگ دعووں کے باجود  اسٹریٹ کرائم   کی صورتحال میں بہتری نہ آئی۔سال دوہزار چوبیس کے دوران موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتوں میں 93  جبکہ گاڑی چھیننے کی وارداتوں میں 52 فیصد اضافہ ہوگیا ، رواں سال رپورٹ ہونے والے  جرائم کی وارداتیں 28ہزار 311 تک جا پہنچیں ،

کراچی پولیس کی پھرتیاں۔ناکے ،چھاپے اور گرفتاریاں۔تمام  تر اقدامات کے باوجود شہر میں لوٹ مار کی  صورتحال بہتر نہ ہوئی۔

ادارہ سی پی ایل سی نے اپریل 2024 میں  رپورٹ ہونے والی اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کی تفصیلات بھی جاری کردیں جس کے مطابق سال 2024 کے چوتھے ماہ میں مجموعی طور پر اسٹریٹ کرائم کی 5 ہزار 727 وارداتیں رپورٹ کی گئیں۔

تازہ اعدادوشمار سامنے آنے کے بعد رواں برس  کے ابتدائی چار ماہ میں اسٹریٹ کرائم کی رپورٹ  ہونے والی وارداتوں کی تعداد 28ہزار 311 تک جا پہنچی ہے

ریکارڈ  کے مطابق سال دوہزار چوبیس کے  چار ماہ میں گزشتہ سال کی نسبت موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتیں 93   اور گاڑی چھیننے کی وارداتیں  52 فیصد بڑھ گئیں ،کراچی والوں کو رواں برس کے چار ماہ میں 20ہزار 152 موٹرسائیکلوں سے محروم کیا جاچکا ہے

سال  2023  کے دوران جنوری تا اپریل 29 ہزار 171 وارداتیں سامنے آئی تھیں،ریکارڈ بتاتا ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں موٹر سائیکل چوری کی شرح میں ڈھائی فیصد جبکہ موبائل فونز چھیننے کی وارداتوں میں 26 فیصد کمی آئی، اسی طرح گاڑی چوری کی وارداتوں میں بھی  19 فیصد کمی رپورٹ  ہوئی ہے

سی پی ایل سی ریکارڈ بتاتا ہےکہ پولیس  حکام کے تمام تر اقدامات اور بلدن و بانگ دعووں کے باوجود  سال 2023 کی نسبت رواں برس کے چار ماہ میں اسٹریٹ کرائم  کی شرح میں مجموعی طور پر محض  3 فیصد کمی آسکی ہے۔