جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہےکہ
مجھے نہیں لگتا کہ حکومت ڈیلیور کر سکے
گی، موجودہ اسمبلی انتہائی کمزور اسمبلی ہے، میں نہیں سمجھتا کہ اکثریت ملک پر حکومت کررہی ہے، پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں، پی ٹی آئی سے ذاتی دشمنی نہیں، ہم حکومت کیخلاف تحریک شروع کر چکے ہیں، اگر قوم اپنے ووٹ کاتحفظ نہیں کرے گی تو ہم غلامی کی طرف جائیں گے، آپ یکم جو ن کو عوام کا ایک اور ردعمل دیکھیں گے، میرے خیال میں حکومت ہے ہی نہیں،سب کو عہدے مل گئے ہیں جسے انجوائے کررہے ہیں ہم اپنے موقف پر ڈٹے ہیں، قوم ہمارے ساتھ ہے اور رہے گی، ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، آئین کا ہم نے حلف اٹھایا ہواہے، آئین اور آئینی اداروں کو بالادست ہونا چاہئے، میری خوش قسمتی ہے کہ میرے مدمقابل دونوں امیدوار بڑے منصب پر فائز ہیں، ایک صوبے کا وزیراعلیٰ اور گورنر میرے حلقے سے ہیں، عوام اگر مجھے ووٹ دیں گے تو میں صدر بھی بنوں گا اور وزیراعظم بھی، 5سیٹوں کیساتھ میں کہوں کہ میں صدر بن جاوں یہ کوئی میری سیاست نہیں ہوسکتی، ہمارا بجٹ آئی ایم ایف کے ہاتھ میں ہے، ہم اور پی ٹی آئی بارہ تیرہ سال ایک دوسرے کے مخالف رہے ہیں ہم کسان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑ ے ہیں، اس وقت کسان بہت مظلو م ہے ، آپ کےپا س 45لاکھ ٹن گندم موجود ہے تو 35لاکھ ٹن گندم کیوں منگوائی، کسانوں پر ہونے والے ظلم کی پوچھ کچھ بھی ہونی چاہئے، جنہوں نے کسانوں پر ظلم کیا ہے ان کا محاسبہ کیا جائے، حکومت فوری مستعفی ہو اور دوبار ہ الیکشن کرائے جائیں، ہمارا افغانستان سے بھی جھگڑا ہے، سی پیک کے نو گیٹ ویز سے افغانستان تک رسائی ہوتی، آج ہمارے افغانستان سے تعلقات اچھے نہیں، آج پاکستان گھاٹے کے سودے میں ہے، مذاکرات کا کوئی ماحول بنے گا تو ملکی مفاد کیلئے تحفظات کو دور کیا جائے گا پی ٹی آئی کے دو وفود ملاقات کیلئے آئے، ان سے تحفظات دور کرنے کی بات چل رہی ہے ہماری ساری چیزیں شخصیات پر گھومتی ہیں،