لیگی رہنما مشاہد حسین سید نے ایک مرتبہ پھر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کردیا۔

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

لیگی رہنما مشاہد حسین سید نے ایک مرتبہ پھر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کردیا۔

لیگی رہنما مشاہد حسین سید نے ایک مرتبہ پھر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کردیا۔

 کہتے ہیں جتنے بھی سیاسی قیدی ہیں ان کو رہائی ملنی چاہیئے۔ کسی کے فون کے انتظار سے قبل ہی بانی پی ٹی آئی کو رہائی دینی چاہیئے۔ نو مئی کے حوالے سے مجھے علم نہیں ہے۔

کراچی کونسل آف فارن افیئرز کے زیر اہتمام پاکستان افریقہ تعلقات پر کانفرنس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ پاکستان کا افریقہ کے ساتھ تاریخی رشتہ ہے۔

 تعلقات صرف وزارت خارجہ تک محدود نہیں ہونے چاہیئیں بلکہ بزنس کو بھی فروغ دینا چاہیئے۔ پاکستان نے کینیا میں تنزانیہ میں یوگنڈا کے مختلف حصوں میں کام کیا۔

 آج سے نوے سال قبل علامہ اقبال نے مغربی بالادستی ختم ہونے کی پیشگوئی کی تھی۔

قوم میں جذبہ موجود ہے لیکن قیادت تھوڑی کمزور ہے۔ ون مین شو کا دعویٰ کرنے والے ناکام ہو جاتے ہیں چاہے وہ فوجی ہو یا سویلین ہو۔ ہمارا رونا دھونا رہتا ہے کہ سازش ہوگئی لیکن درحقیقت کچھ کرنہیں پاتے۔

 رونا دھونا بند کرکے عملی طور پر کام کرنا ہوگا۔

 یہ کہنا چھوڑدیں کہ امریکہ اور آئی ایم ایف کیا کہے گا۔

 امید ہے آئی ایم ایف کا یہ آخری پروگرام ہو، ہم 23 بار تو جاچکے ہیں۔

 مسئلے کا حل پاکستان کے اندر ہے، پوری دنیا پاکستان میں انویسٹ کےلئے تیار ہے۔ سعودی عرب، چین، کویت، عمان والے اس وقت پاکستان میں انویسٹ کےلئے تیار ہیں۔

 پاکستان سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوا، اسی وجہ سے معاشی عدم استحکام ہوگا۔

 صدر جوبائیڈن کی فلسطین کے حوالے سے پالیسیز غلط ہیں۔

 صدر جوبائیڈن کو فلسطین کے جرم میں شامل ہونے پر سزا ملے گی۔