ورلڈ ایجوکیشن فورم

عرفان علی عرفان علی

 ورلڈ ایجوکیشن فورم

وزیر تعلیم سندھ نے ورلڈ ایجوکیشن فورم کے دوران اسلامی ممالک کی تنظیم  ICESCO کے وزاء تعلیم کے اعلیٰ سطحی ڈائیلاگ میں اسلامی ممالک کا جامع تعلیمی ڈیٹا مرتب کرنے کی تجویز پیش کردی۔


لندن/کراچی، 
لندن میں منعقدہ ورلڈ ایجوکیشن فورم کے دوران پاکستان سے سندھ کی نمائندگی کرتے ہوۓ وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے تمام اسلامی ممالک کے تعلیم کے سلسلے میں اعداد و شمار کو یکجا کرنے کی اہم ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ اسلامی ملک کے مخصوص مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔ صوبائی وزیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جامع اعداد و شمار کے بغیر تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی کوششیں پوری طرح سے کارگر ثابت نہیں ہوں گی۔ 



سید سردار علی شاہ نے ان خیالات کا اظہار اسلامک کنٹریز ایجوکیشنل، سائنٹفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن (ICESCO) کی جانب سے لندن میں ایجوکیشن ورلڈ فورم کے بعد منعقدہ وزراء تعلیم کے اعلیٰ سطحی ڈائلاگ کے دوران کہے، ڈائلاگ سیشن مسقط میں اکتوبر میں ہونے والی آئندہ 'ٹرانسفارمنگ ایجوکیشن: پاتھ ویز ٹو ICESCO کے وزاء تعلیم کانفرنس' کے حوالے سے رکھا گیا تھا۔
اپنے خطاب کے دوران، صوبائی وزیر تعلیم نے پاکستان کو درپیش فوری تعلیمی چیلنجز پر اظہار خیال کیا، خاص طور پر صوبہ سندھ، جس میں اس وقت 4.1 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں۔


انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان ایک تعلیمی ایمرجنسی صورتحال میں ہے، تباہ کن سیلاب کی وجہ سے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے جس نے 19,000 اسکولوں کو جزوی یا مکمل طور پر متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے طلباء کے داخلہ اور اسکول جاری رکھنے کی شرح پر شدید اثر پڑ رہا ہے


وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے فلسطینی عوام کی جاری نسل کشی پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا بھی اعادہ کیا۔
ان مسائل کو اجاگر کرنے کے علاوہ، وزیر تعلیم سردار شاہ نے تجربات سے سیکھنے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ICESCO کے رکن ممالک کے درمیان تعلیمی تبادلے کے پروگرام متعارف کرانے کے حوالے سے بھی بات کی۔



ورلڈ ایجوکیشن فورم میں 114 ممالک کے 120 وزراء نے شریک ہیں، جو تمام دنیا بھر میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے بات چیت اور حکمت عملی تیار کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔


ایجوکیشن ورلڈ فورم 2024 کا موضوع “مصنوعی ذہانت کو فروغ کرنے کی حوصلہ افزائی، انسانی تعلقات اور لچک پیدا کرنا، اور موسمیاتی اثرات کے نمٹنے کے عمل کو تیز کرنا” ہے اس کے علاوہ عالمی سطح پر ہمیں مضبوط، جرات مندانہ، بہتر، تعلیم کے لیے پالیسی اور نفاذ کو کس طرح ترجیح دی جاۓ، اس پر بھی بحث و مباحثے اور تبادلہ خیال کیا گیا۔