ٹنڈو الہیار سندھ کی زمینوں پر قبضے اور دریائے سندھ سے 6 کینال نکالنے کے خلاف 17 نومبر کو کراچی میں سندھیانی تحریک کے اعلان کردہ مارچ کی تیاریاں جاری ہیں

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

 ٹنڈو الہیار سندھ کی زمینوں پر قبضے اور دریائے سندھ سے 6 کینال نکالنے کے خلاف 17 نومبر کو کراچی میں سندھیانی تحریک کے اعلان کردہ مارچ کی تیاریاں جاری ہیں


ٹنڈو الہیار سندھ کی زمینوں پر قبضے اور دریائے سندھ سے 6 کینال نکالنے کے خلاف 17 نومبر کو کراچی میں سندھیانی تحریک کے اعلان کردہ مارچ کی تیاریاں جاری ہیں۔


  اس سلسلے میں سندھیانی تحریک کے مرکزی صدر عمرہ سموں، عوامی تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، سندھی مزدور تحریک کے مرکزی صدر حاجی خان سموں، سندھیانی تحریک کی مرکزی رہنما حسنہ راہوجو، ایڈووکیٹ سورٹھ منگنہار، عاصمہ جروار، عصمت منگنہار، عوامی تحریک کے مرکزی رہنما عبدالرحمن سموں، عبداللہ منگنہار، سائیں بخش جروار اور مظہر میرجت نے ضلع ٹنڈوالہٰیار کے مختلف دیہات کا دورہ کیا اور خواتین کو مارچ میں شرکت کی دعوت دی۔  اس موقع پر پریس کلب ٹنڈو الہیار میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ پر ڈکیتیوں کا سلسلہ جاری ہے۔  دریائے سندھ سے 6 نئیں کینال نکال کر سندھ کو مکمل طور پر بنجر بنانے کی سازش کی جا رہی ہے۔  پیپلز پارٹی کی حکومت نے دریائے سندھ پر ڈکیتیوں میں سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔  ارسا ایکٹ میں ترمیم کرکے دریائے سندھ کو مکمل طور پر خشک کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر زمین پر قبضہ کیا جا رہا ہے. کارپوریٹ فارمنگ کو پانی فراہم کرنے کے لیے ارسا ایکٹ میں ترمیم کی جا رہی ہے۔  ارسا ایکٹ میں ترمیم کرکے سندھ کا پانی غیر ملکی کمپنیوں کو فروخت کیا جائے گا۔  ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں خواتین کے لیے قیامت برپا کی گئی ہے۔  غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔  سندھ میں خواتین پر تشدد اور جنسی ہراسانی کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں۔  سندھ پولیس اور نان نہاد منتخب نمائندے جرائم پیشہ افراد کے ساتھی ہیں۔


  اس لیے زیادہ تر مجرم قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔  رہنماؤں نے اپیل کی کہ پانی پر ڈاکے اور زمینوں پر قبضے کے خلاف 17 نومبر کو کراچی میں سندھیانی تحریک کی جانب سے ریلی نکالی جائے گی، اس میں سندھ کے عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہیں۔