کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر ایک اور شہری کوقتل کردیاگیا ۔۔۔اورنگی ٹاون میں چالیس سالہ فیاض کی اسٹریٹ کرمنلزنےجان لےلی ۔۔۔ مقتول گھرسےفیکٹری کےلیے روانہ ہواتھا ۔۔۔مقتول تین بچوں کا باپ تھا ۔۔۔شہرمیں رواں سال ڈکیتی مزاحمت پرایک سوچھ افراد قتل کیےجاچکےہیں۔
۔۔۔ایک موبائل کی قیمت دس بیس ہزارروپےہے،اس کےلیے جوان چلاجاتاہے،پورا خاندان رل جاتاہے۔
کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر ایک اورشخص کا قتل۔
چالیس سالہ فیاض کوگھرسےفیکڑی جانےکےدوران موٹرسائیکل سواردوملزمان نے لوٹنےکی کوشش کی
مقتول کی مزاحمت کی توملزمان نے گولی چلادی ۔
علاقہ پولیس کےمطابق فائرنگ کے بعد ملزمان لوٹےبغیرہی فرارہوگئے۔۔۔
پولیس کوجائےوقوعہ سے پستول کاایک خول ملاہے۔
اعجاز،بھائی مقتول فیاض۔۔۔مقتول تین بچوں کاباپ تھا ۔۔۔اس نے اسٹریٹ کرمنل کا بھرپورمقابلہ کیاہے،ایک پستول بھی چھین لی تھی،وہ پستول پولیس کی تحویل میں ہے ،ملزم کو بائیک سے بھی گرادیاتھا ،وہ تو بچارہ شہیدہوگیا ، ہم چاربھائی دوبہنیں ہیں
شہرمیں رواں سال ڈکیتی مزاحمت پر ایک سوچھ افراد قتل کیےجاچکےہیں ۔۔۔
رواں ماہ میں شہرمیں ہونےوالایہ دوسرا قتل ہوا۔۔۔
اعدادوشمارکےمطابق جنوری میں میں بارہ افراد کودوران ڈکیتی مزاحمت پرقتل کیاگیا ۔۔۔
فروری میں بیس افراد اسٹریٹ کرمنلزکانشانہ بنے۔۔۔
مارچ میں سترہ افراد سے جینےکاحق چھیناگیا ۔۔۔
مزاحمت کرنےپر اپریل میں انیس افراد قتل کردئیےگئے۔۔۔
مئی میں دو ،جون میں دس اور جولائی میں تین افراد کواسٹریٹ کرمنلزنےاپناہدف بنایا۔۔۔
اگست میں ڈکیتی مزاحمت پرقتل ہونےوالوں کی تعداد سات ، ستمبرمیں نواور اکتوبرمیں پانچ رہی ۔
کراچی کا ضلع شرقی اٹھائیس اموات کے ساتھ سرفہرست رہا ۔۔۔
ضلع غربی میں چوبیس،ضلع کورنگی میں سترہ اور ضلع وسطی میں چودہ افراد جان سے گئے۔۔۔
ضلع ملیرمیں قتل ہونےوالوں کی تعداد نوجبکہ ضلع کیماڑی میں آٹھ افراد ڈکیتی مزاحمت پرمارےگئے۔۔۔
ضلع جنوبی میں پانچ اور ڈسٹرکٹ سٹی میں ایک شخص قتل ہوا۔۔۔