کراچی میں دندناتے لٹیروں نے ایک اور جان لے لی۔۔چند ہزار کے موبائل فون کی خاطر آن لائن بائیک سروس کے رائیڈر کو دو گولیاں مار کر قتل کردیا۔ڈاکو موبائل فون چھین کر فرار ہوگئے ۔وزیر اعلیٰ سندھ نے بائیک رائیڈر کے قتل کا نوٹس لے لیا ،
گلستان جوہر منور چورنگی کے قریب بائیک رائیڈر سے ڈاکؤوں کی لوٹ مار کی کوشش۔محنت کش رائیڈر روزگار کا ذریعہ چھنتا دیکھ کر ڈاکؤوں سے الجھ پڑا۔۔۔بدلے میں موت مل گئی۔۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں نمایاں ہے کہ واردات کرکے فرار ہوتے ایک ڈاکو کو بائیک رائیڈر فہد نے پکڑا،، تو ملزم کے ساتھی نےاسے گولیاں ماردیں ۔
فہد کی شناخت جیب سے ملنے والے ڈرائیونگ لائسنس کی مدد سے کی گئی۔۔۔مقتول کورنگی کا رہائشی تھا اور گلستان جوہر میں درخت کے نیچے کھڑا سواری کا انتظار کررہا تھاکہ واردات کا شکار ہوگیا۔۔
پیرشبیر،ایس ایچ او گلستان جوہر ۔کہتے ہیں کہ یہ منور چورنگے کے قریب کھڑا تھا یہ بائکیا چلاتا ہے لیکن وہ بائکیا کی بھی شرٹ اس کے کپڑوں کے اندر تھی تو دو آدمی اس کے قریب آئے اور ان کی مزاحمت ہوئی جنہوں نے اس کے اوپر فائر کیے اس کا پرس اور موٹرسائیکل تو وہاں تھا شاید اس کا فون لے گئے ہر پہلو سے ہم اس کی تفتیش کر رہے ہیں اور وہاں سے سی سی ٹی وی وغیرہ اور بہت ساری چیزیں ملی ہیں تو ہر پہلو سے ہم تحقیق کر رہے ہیں
وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی گلستان جوہر میں ڈاکووں کی فائرنگ سے بائیک رائیڈر کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کراچی پولیس چیف سے رپورٹ طلب کرلی۔رواں برس دوران لوٹ مار قتل افراد کی تعداد 110 تک جا پہنچی ہے۔