آئی بی اے کراچی میں متبادل تنازعات کے حل (ADR) کے مستقبل پر اہم سیمینار کا انعقاد

رباب ابراہیم رباب ابراہیم

آئی بی اے کراچی میں متبادل تنازعات کے حل (ADR) کے مستقبل پر اہم سیمینار کا انعقاد


آئی بی اے کراچی میں متبادل تنازعات کے حل (ADR) کے مستقبل پر اہم سیمینار کا انعقاد 


کراچی،انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA) کراچی میں پاکستان میں متبادل تنازعات کے حل (ADR) کی تحریک کے لیے آگے کا راستہ" کے عنوان سے ایک اہم سیمینار منعقد ہوا۔ یہ تقریب آئی بی اے کے ADR انٹرنیشنل سینٹر (ADRIC) اور ملائیشین انٹرنیشنل میڈی ایشن سینٹر (MIMC) کے اشتراک سے آئی بی اے سٹی کیمپس میں منعقد کی گئی، جس میں قانونی ماہرین، بین الاقوامی ADR مراکز کے نمائندوں، ججز، اور متعلقہ شعبے کے اہم افراد نے شرکت کی۔  


تقریب کے مہمانانِ خصوصی سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج اور ADR کمیٹی کے سربراہ جسٹس منصور علی شاہ اور لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد حسن تھے، جنہیں آئی بی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس اکبر زیدی نے خوش آمدید کہا۔ ڈاکٹر زیدی نے جسٹس منصور علی شاہ کو ADR اور ماحولیاتی انصاف کا ایک مضبوط وکیل اور اس میدان میں اصلاحات کا بانی قرار دیا۔  


پاکستان میں ADR قوانین میں بڑی اصلاحات متوقع  


سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پاکستان میں ADR قوانین میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائی جا رہی ہیں، جن میں 1940 کے فرسودہ ثالثی قانون کی جگہ ایک نیا قانون شامل ہے۔ یہ نیا قانون عدالتوں کی مداخلت کو محدود کرے گا اور ثالثی کے ذریعےتنازعات کے حل کا ایک زیادہ موثر نظام فراہم کرے گا۔ انہوں نے آئی بی اے-ADRIC کی ADR تعلیم اور تربیت کے فروغ کے لیے کوششوں کو سراہا اور MIMC کے ساتھ اس کے تعاون کی تعریف کی۔  


جسٹس جواد حسن نے ADR کے فروغ میں پاکستان کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی اور سرکاری اداروں میں ADR کو لازمی بنانے کے نئے قانون کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دفعہ 134 میں ترمیم کے بعد اب سرکاری اداروں میں تنازعات کا حل لازمی طور پر ثالثی (Mediation) کے ذریعے کیا جائے گا، اور اس پر اپیل کا حق نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس اقدام کو ایک انقلابی پیش رفت قرار دیا، جو پاکستان کو کئی مغربی ممالک، بشمول امریکہ اور برطانیہ، سے آگے لے گیا ہے، جہاں ADR اب بھی رضاکارانہ بنیادوں پر نافذ ہے۔  


بین الاقوامی ماہرین کی شرکت  


یہ سیمینار MIMC انٹرنیشنل میڈی ایٹرز ٹریننگ پروگرام کا حصہ تھا، جو ADRIC اور MIMC کے اشتراک سے منعقد کیا گیا۔ یہ ایک ہفتے پر محیط تربیتی پروگرام تھا، جس میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ثالثی ماہرین، بشمول "داتوک خطب الزمان"اور "داتوک عبدل فرید" (سابق صدور، ملائیشین بار کونسل)، نے تربیت فراہم کی۔  


سیمینار کے افتتاحی سیشن میں آئی بی اے-سی ای ای (IBA-CEE) کے ڈائریکٹر کامران بلگرامی نے تعلیمی اداروں کے ADR کے فروغ میں کردار پر روشنی ڈالی۔ تقریب کے اختتام پر آئی بی اے-ADRIC کے ہیڈ آف پارٹنرشپس، بلنت سہیل نے مہمانانِ خصوصی اور بین الاقوامی ٹرینرز کا شکریہ ادا کیا۔

  

یہ سیمینار پاکستان میں متبادل تنازعات کے حل کے مستقبل کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، جو ملک کے قانونی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھے گا