خضدار میں خفیہ اداروں کی انتھک محنت اور کاوشوں سے آسمہ جتک کو بازیاب کرالیاگیا

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

خضدار میں خفیہ اداروں کی انتھک محنت  اور کاوشوں سے آسمہ جتک کو  بازیاب کرالیاگیا

خضدار میں خفیہ اداروں کی انتھک محنت  اور کاوشوں سے آسمہ جتک کو  بازیاب کرالیاگیا وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی  کی سخت نگرانی اور ہدایات کی روشنی میں خضدار  اور سوراب کی پولیس اور لیویز فورس نے 2 راتوں کے دوران 16 مشتبہ افراد گرفتار کیا ۔ 

تاہم واقعے میں ملوث مرکزی مجرم کو پولیس گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ 



آسمہ بلوچ  کی کرب کی لہجے میں بیان کی اغوا کی داستان، سننے والے بھی آبدیدہ ہوگئے۔

خضدار آسمہ بلوچ کی بازیابی  کے بعد انہوں نے  مظاہرین میں شریک شرکاء سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔ 

انہوں نے کہاکہ رات کے دو بجے ان کے گھر پر حملہ کیا گیا، ان کے گھر والوں کو مارا پیٹا گیا، اور انہیں زبردستی اغوا کر لیا گیا۔ 

ان کے منہ پر پٹی باندھی گئی، گلا دبایا گیا، اور گاڑی کی ڈکی میں ڈال کر ایک ویران جگہ پر لے جایا گیا، جہاں انہیں قید رکھا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

 انہیں زبردستی بیان دینے پر مجبور کیا گیا اور دھمکی دی گئی کہ اگر انہوں نے حکم نہ مانا تو ان کے والد اور بھائیوں کو قتل کر دیا جائے گا۔

 آسمہ نے بتایا کہ تین دن تک انہوں نے کچھ نہیں کھایا پیا اور ان پر مسلسل دباؤ ڈالا گیا کہ وہ عدالت میں ان کے ساتھ رشتے کا اعتراف کریں۔

 تاہم عوام کی جدوجہد اور دھرنے کے باعث وہ اغواکاروں کے چنگل سے آزاد ہو سکیں، جس پر انہوں نے تمام عوام کا شکریہ ادا کیا۔

خضدار  میں اغوا کاروں سے بازیاب ہونے والی آسمہ  بلوچ کو  عدالت میں  پیش  ہوئی اور اپنا بیان ریکارڈ کروادیا

بیان ریکارڈ کروانے کے بعد آسمہ  بی بی فیملی کو حوالے کردیا گیا

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی موجود تھے 

بازیاب ہونے والی آسمہ  بی بی کو خاندان کے حوالگی کے وقت رکن بلوچستان اسمبلی آغا عمر بھی موجود تھے

آسمہ  بلو چ کوان کے بھائی ڈاکٹر عطاء اللہ جتک کے حوالے کیا گیا

عدالت نے آسمہ بلوچ  کو ان کی رضامندی سے خاندان کے ساتھ جانے کی اجازت دیدی


آسمہ بی بی کی بازیابی اور باحفاظت فیملی کی حوالگی کے بعد کے معاملات پر پرنس آغا عمرجان احمدزئی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی

پرنس آغا عمرجان احمدزئی کی سربراہی میں قائم کمیٹی میں آسمہ بی بی کے اہل خانہ اور دیگر قبائلی عمائدین شامل ہیں

کمیٹی احتجاج اور دھرنا  ختم کرنے سمیت دیگر معاملات پر فیصلہ کیاگیا ۔