کراچی کے علاقے ٹیپو سلطان روڈ محمد
علی سوسائٹی میں آگ لگ گئی ، گھر میں دھواں بھر جانے کے سبب دم گھٹنے سے چار بہن
بھائیوں سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوگئے۔ریسکیو کے دوران ایک فائر فائٹر بھی بے ہوش
ہوا جسے جناح اسپتال میں طبی امداد دی جاری ہے،
محمد علی سوسائٹی میں صبح سویرے افسوسناک حادثہ پیش آیا، آگ کی اطلاع پر فائر
بریگیڈ کی تین گاڑیاں موقعے پر پہنچی اور مکان میں پھنسے افراد کو نکالنے کے
ساتھ اگ بجھانے کے آپریشن شروع کیا گیا۔ٓآگ لگنے کی وجہ سے گھر میں دھواں بھر
گیا۔جس کے باعث گھر میں موجود افراد کا دم گھٹنے سے گھر کے رہائشی چار معمر افراد
بے ہوش ہوگئے جنہیں ریسکیو ٹیموں کی مدد سے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ
ہو سکے،جبکہ ریسکیوٹیموں نے آپریشن کے دوران گھر کے ملازم کی لاش بھی نکالی، جاں
بحق افراد میں دو خواتین اور تین مرد شامل ہیں، جاں بحق افراد کی شناخت 80 سالہ
سلطان مرزا،72سالہ شازیہ مرزا،78 سالہ صبیحہ مرزا،60 سالہ فرحت مرزا اور
ملازم اکبر شامل ہیں۔پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے فرحت مرزا جناح سندھ میڈیکل
یونیورسٹی کے پروفیسر تھے۔ جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کو قانونی کارروائی
کے بعد اہل خانہ حوالے کیا جائے گا ، واقعہ میں ریسکیو کے عمل کے دوران ایک فائر
فائٹر صادق حسین دم گھٹنے سے بے ہوش ہوا جسے اسپتال متنقل کیاگیا جہاں ان کی حالت
خطرے سے باہر ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ آگ لگی یا لگائی گئی حتمی طور کچھ نہیں کہہ
سکتے فوری معلومات کے مطابق بجلی کی شارٹ سرکٹ سے آگ لگی فائر بریگیڈ، پولیس اور
دیگر تحقیقاتی ادارے جائزہ لیں گے۔