غیر قانونی مطالبات پر سرکاری نوکریاں نہیں دی جا سکتیں، معذور افراد کی بھرتیاں صرف ڈی آر سی کے ذریعے ممکن ہیں: محکمہ برائے بحالی خصوصی افراد
کراچی، محکمہ برائے بحالی خصوصی افراد (DEPD)، حکومت سندھ نے کراچی پریس کلب کے باہر سندھ بلائنڈ ایکشن کمیٹی کے بینر تلے جاری چند نابینا افراد کے احتجاج کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ محکمہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان بغیر کسی قانونی تقاضے کے براہِ راست سرکاری ملازمت فراہم کرنے کے مطالبات غیرقانونی اور ناجائز ہیں، اور ان پر عمل درآمد ممکن نہیں۔ یہ افراد دوسرے معذور طبقات کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف نابینا افراد کے لیے غیرمتناسب طور پر ملازمتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں، حالانکہ قانون اور ضابطے کے مطابق سرکاری ملازمتیں صرف ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی (DRC) کے ذریعے اخبار میں اشتہار شائع کرنے کے بعد فراہم کی جاتی ہیں۔ محکمہ برائے بحالی خصوصی افراد معذور افراد کے لیے روزگار فراہم کرنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے اور بھرتی کے قانون کے مطابق معذور افراد کو سرکاری اداروں میں ملازمتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ مالی سال 2025-26 کے لیے محکمہ کے لیے 17 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، جو حکومت کی معذور افراد کی فلاح، بااختیاری اور شمولیت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ محکمہ بحالی، ہنر مندی کی تربیت، معاون آلات کی فراہمی اور شمولیتی ترقیاتی پروگراموں کے ذریعے معذور افراد کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ گزشتہ سال 156 نابینا افراد کو مختلف اضلاع میں عارضی بنیادوں پر ملازمتیں فراہم کی گئیں، جن میں سے کئی کو ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں ہونے والی ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی (DRC) کے ذریعے مستقل کیا گیا۔ پاکستان ڈس ایبلڈ فاؤنڈیشن، پاکستان انڈیپنڈنٹ لیونگ سینٹر، پاکستان ڈاؤن سنڈروم ایسوسی ایشن، نیشنل ڈس ایبلٹی فورم اور پاکستان ایسوسی ایشن آف بلائنڈ جیسی بڑی تنظیموں نے بھی اس احتجاج کو غیرقانونی قرار دے کر مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ معذور افراد کے لیے روزگار کا کوٹہ تمام طبقات میں مساوی بنیادوں پر تقسیم ہونا چاہیے۔ واضح رہے کہ کسی بھی غیرقانونی احتجاج کی بنیاد پر سرکاری ملازمت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کے مطابق بھرتیاں صرف میرٹ اور شفافیت کے اصولوں کے تحت ہی ممکن ہیں۔ لہٰذا، یہ احتجاج بے جا اور غیرقانونی ہے اور محکمہ اسے مسترد کرتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ معذور افراد کو چاہیے کہ وہ بھرتی کے لیے متعلقہ ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی (DRC) سے رجوع کریں۔