سیلاب متاثرین کی محفوظ مقامات پر منتقلی حکومت کی اولین ترجیح، عظمیٰ بخاری
لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی محفوظ مقامات پر منتقلی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں صرف دو گھنٹوں میں ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جس کا سہرا پیشگی تیاریوں کو جاتا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ تنصیبات کو محفوظ بنانے کے لیے بند توڑے جا رہے ہیں، جبکہ ہیڈ قادر آباد میں پانی کی سطح میں کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت مکمل طور پر تیار ہے۔
بھارت میں ایک ڈیم ٹوٹنے کی اطلاعات پر انہوں نے کہا کہ کتنا پانی آئے گا، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ بند پر کھڑے ہو کر سیلاب دیکھنے سے گریز کریں، یہ تماشہ نہیں بلکہ خطرناک صورتحال ہے۔
سیالکوٹ میں سیلابی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے جعلی ویڈیوز کی مذمت کی اور بتایا کہ ایم ڈی واسا کو معطل کر دیا گیا ہے۔ چند گھنٹوں میں نکاسی آب کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ ایک فیملی کی خود انخلا کی کوشش کے دوران حادثہ پیش آیا، جس پر انہوں نے متاثرین کو ریسکیو اداروں سے تعاون کی اپیل کی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ریلیف کیمپوں میں رہنا آسان نہیں، مگر عوام کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ وزیرآباد کی مرکزی شاہراہ سے پانی اتر چکا ہے، تاہم سیالکوٹ اور گجرات میں مختلف جگہوں پر پانی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ روٹی اور آٹے کی قیمت پر وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اور امید ہے کہ سیلاب کے باوجود پنجاب میں گندم کی وافر پیداوار حاصل ہو گی۔