جب میں نے پہلی بار نیہا بورا کو دیکھا...

عمران عمران

جب میں نے پہلی بار نیہا بورا کو دیکھا...




سچ کہوں تو میں نے پہلی بار نیہا بورا کو کسی سیاسی رہنما کے طور پر نہیں دیکھا تھا، بلکہ ایک ایسے چہرے کے طور پر دیکھا تھا جس کی آنکھوں میں عجیب سی خاموشی تھی۔ ایسی خاموشی جو چیختی نہیں، مگر دل کے بند دروازوں پر مسلسل دستک دیتی رہتی ہے۔
سوشل میڈیا کی بے شمار ویڈیوز، نعروں، بحثوں اور شور کے درمیان اچانک وہ چہرہ سامنے آیا۔ ایک دبلی سی لڑکی... چہرے پر تھکن، ہونٹوں پر خاموشی، مگر آنکھوں میں ایسا یقین جیسے وہ اپنے لیے نہیں، ہزاروں انجان چہروں کے لیے بیٹھی ہو۔

میں نے سوچا...

آخر کون ہوتا ہے جو اپنی بھوک کو دوسروں کے مستقبل کے نام کر دیتا ہے؟
دنیا میں لوگ اپنے حصے کی ایک روٹی بھی چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتے، مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی بھوک کو ایک سوال بنا دیتے ہیں۔ ایسا سوال جس کا جواب حکومتوں کے پاس بھی نہیں ہوتا اور معاشرے کے پاس بھی نہیں۔
جب میں نے نیہا بورا کو دیکھا تو مجھے ایسا لگا جیسے وہ صرف ایک طالبہ نہیں، بلکہ اس نسل کی نمائندہ ہے جو یہ کہہ رہی ہے کہ تعلیم صرف کتابوں کا نام نہیں، بلکہ عزت، انصاف اور امید کا نام بھی ہے۔
وہ شاید جانتی ہوگی کہ بھوک ہڑتال جسم کو کمزور کر دیتی ہے، لیکن کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو طاقت سے نہیں، قربانی سے بلند ہوتی ہیں۔
میں اس کی کسی سیاسی وابستگی سے پہلے اس کے انسان ہونے کو دیکھ رہا تھا۔
کیونکہ انسانیت ہمیشہ سیاست سے بڑی ہوتی ہے۔

وہ منظر عجیب تھا...

ایک طرف کیمرے تھے، دوسری طرف نعرے تھے، اور درمیان میں ایک لڑکی خاموش بیٹھی تھی۔
مگر کبھی کبھی خاموش لوگ ہی سب سے بلند تقریر کر جاتے ہیں۔
اسے دیکھ کر مجھے ان لاکھوں نوجوانوں کا خیال آیا جو امتحانوں کے دباؤ، بے روزگاری، ناانصافی اور مایوسی کے درمیان خاموشی سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ کتنے ہی خواب ایسے ہیں جو ڈگری لینے سے پہلے دفن ہو جاتے ہیں، کتنی ہی آنکھیں ایسی ہیں جو کتابوں پر جھکتے جھکتے آنسوؤں سے دھندلا جاتی ہیں۔
شاید اسی لیے مجھے نیہا بورا کا چہرہ صرف ایک فرد کا چہرہ نہیں لگا، بلکہ ہر اُس طالب علم کی تصویر لگا جو یہ چاہتا ہے کہ آنے والی نسل کو وہ درد نہ سہنا پڑے جو اس نے خود دیکھا ہے۔

ہم اختلاف کر سکتے ہیں۔
ہم کسی کے نظریات سے متفق یا غیر متفق ہو سکتے ہیں۔
لیکن جب کوئی انسان اپنی ذات سے بڑھ کر کسی اجتماعی مسئلے کی بات کرتا ہے، تو کم از کم اتنا ضرور ہوتا ہے کہ وہ ہمیں اپنے ضمیر سے ایک سوال پوچھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
میری نظر میں طالب علم صرف ڈگری لینے والا شخص نہیں ہوتا۔
طالب علم وہ چراغ ہے جو معاشرے کے اندھیروں کو چیلنج کرتا ہے۔
وہ سوال کرتا ہے، سیکھتا ہے، اختلاف کرتا ہے، اور اگر ضرورت پڑے تو اپنی آسائش بھی قربان کر دیتا ہے تاکہ آنے والے کل میں کسی اور کا راستہ آسان ہو سکے۔
نیہا بورا کو دیکھتے ہوئے مجھے بار بار فیض کا ایک احساس یاد آیا کہ کچھ لوگ اپنی ذات سے آگے نکل جاتے ہیں۔ وہ اپنے نام سے زیادہ اپنے مقصد کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔
شاید اسی لیے تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے دوسروں کے لیے تکلیف برداشت کی۔
میں نہیں جانتا کہ کل اس جدوجہد کا انجام کیا ہوگا۔

میں نہیں جانتا کہ مطالبات مانے جائیں گے یا نہیں۔
میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ اگر کسی ایک انسان کی خاموش قربانی ایک نوجوان کو خودکشی سے روک دے، اگر کسی ایک آواز سے ایک طالب علم کے دل میں امید کا چراغ جل جائے، اگر کوئی لڑکا یا لڑکی یہ سوچ لے کہ "میں ہار نہیں مانوں گا، میں زندہ رہ کر لڑوں گا"، تو شاید یہی کسی بھی جدوجہد کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
کیونکہ معاشرے صرف قانون سے نہیں بدلتے...
وہ ان لوگوں سے بدلتے ہیں جو دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھ لیتے ہیں۔
اور میں نے جب پہلی بار نیہا بورا کو دیکھا، تو مجھے ایک سیاست دان نہیں، ایک ایسی طالبہ دکھائی دی جس کی خاموشی میں ہزاروں طلبہ کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
شاید یہی انسانیت کی سب سے خوبصورت تعریف ہے...
اپنی بھوک سے پہلے کسی اور کے مستقبل کی فکر کرنا۔