وزیر اطلاعات سعید غنی نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن
لیڈر حلیم عادل شیخ کے نقطہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسکولوں کے فرینچر
کا ٹھیکہ تیسری بار منسوخ ہونا ،،،ذاتی طور پر میرے حق میں ہے لیکن اسکولوں میں
بچے مزید ڈیرہ دو سال کیلئے فرنیچر سے محروم رہیں گے ۔
مہنگی
اسکول ڈیسک خریدنے کا معاملہ پر آج بھی سندھ اسمبلی میں موضوع بحث بنا
رہا، اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے نقطہ اعتراض پر کہا نجی اسکول من مانی کر رہے
ہیں ،،کیوں کہ سرکاری اسکول یا تو بند کیئے جا رہے ہیں ،،یا ان کے فنڈز کرپشن کی
نذر ہو رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے جواب دیتے ہوئے
کہا کہ پہلا ٹھیکہ سردار شاہ کے دور میں،دوسرا وزیر اعلٰی سندھ کے دور میں منسوخ
ہوا اور موجود ہ ٹھیکہ میرے دور میں آزاد و خود مختار کمیٹی نے منظور کیا ہے،
سعید غنی کا کہنا تھا کہ چھ ارب روپے کےٹھیکے میں فرنیچر کی قیمت ،23 فیصد ٹیکس اور فرنیچر متعلقہ اسکول تک پہنچانے کیلئے ٹرانسپورٹیشن کا
خرچہ بھی شامل ہے۔۔