وزیر توانائی سندھ امتیاز شیخ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے سندھ سمیت پورے
ملک کو گیس کے شدید بحران میں دھکیل دیا ہے۔تھرکول سستی ترین توانائی فراہم کرنے
کا ذریعہ ہے لیکن سیاسی وجوہات کی بنا پر سندھ کو جان بوجھ کر پیچھے کیا جارہا ہے
امتیاز شیخ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی نااہلی کے باعث سی این جی اسٹیشنز بند ہیں۔ ایکسپورٹ
انڈسٹری بھی بند ہونے کا خدشہ ہے۔ سندھ سے گیس، تیل اور کوئلہ بھی نکلتا ہے۔ جو
توانائی کا سستا ترین ذریعہ ہے
آنےوالےدنوں میں جب فیز تھری ختم ہوجائےگی
27ڈالر ٹیم ہے اپنا کوئلہ امپورٹیڈ کوئلہ 250ڈالر فی ٹن ہے۔اتنے وسائل یہاں موجود
ہیں فائدہ اٹھایا نہیں جاتا
صوبائی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ملک میں
تمام چیزوں کی قلت کردی گئی ہے۔ ہر چیز درآمد ہورہی ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ سندھ میں مہنگائی
ہے۔
کہاجارہاہے کہ سندھ میں مہنگائی زیادہ ہے آپ
اگر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دوتو کیا امید کرتے ہیں
امتیاز شیخ نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم اگر کوئی
ایکشن نہیں لے سکتے تو سوئی سدرن کمپنی کو سندھ کے حوالے کردیں
اور بجلی کی قیمتوں کو فوری منجمد کیا جائے۔