کراچی میں اسٹریٹ کرائم ناسور بننےلگا

عرفان علی عرفان علی

کراچی میں اسٹریٹ کرائم ناسور بننےلگا

کراچی میں اسٹریٹ کرائم ناسور بننےلگا۔۔سال دوہزار اکیس میں لوٹ مار کی وارداتیں 65 ہزار سے تجاوز کر گئیں۔۔گزشتہ سال کے دس ماہ کی نسبت رواں سال پندرہ ہزار تین سو اکیاون وارداتیں زیادہ رپورٹ ہوئیں۔

کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا گراف روز بر روز اوپر کی جانب بڑھنے لگا۔۔۔۔رواں سال کے دس ماہ میں چھینا جھپٹی کی وارداتیں مسلسل اضافے کے ساتھ 65 ہزار کا ہندسہ عبور کر چکی ہیں۔

ادارہ سی پی ایل سی کےتازہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ سال 2021 میں موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتوں میں  84فیصد اضافہ ہوا اورگزشتہ سال کے مقابلے میں 1709وارداتیں زیادہ ہوئیں۔

موٹرسائیکل چوری بھی 36 فیصد بڑھ گئی اور 10ہزار 338وارداتیں زیادہ رپورٹ کی گئیں۔۔۔سی پی ایل سی ذرائع کے مطابق گاڑی چوری میں21جبکہ  چھیننے کی وارداتوں میں 14 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور گزشتہ سال کی نسبت 286وارداتیں زیادہ ہوئیں ۔۔

ریکارڈ بتاتا ہے کہ موبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں رواں برس 17فیصد اضافہ ہوا اور 3018واقعات زیادہ سامنے آئے۔ مجموعی طور پر کراچی والوں کو سال 2021 میں 42ہزار 897موٹرسائیکلوں،  20ہزار 952موبائل فونز،1 ہزار 711گاڑیوں سے محروم کیا جاچکا ہے۔

اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ سال 2020  کے دس ماہ میں کراچی والوں سے 30ہزار 850موٹرسائیکلیں،1 ہزار425 گاڑیاں چوری و چھینی گئی تھیں جبکہ اسلحے کے زور پر 17ہزار 934موبائل فونز بھی چھین لئے گئے تھے۔