لاپتہ افراد کے کیس میں سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ چار چار سال گزر جاتے ہیں رپورٹس نہیں آتیں۔لوگ مایوس ہوکر عدالت نہیں آتےہیں۔
سندھ ہائیکورٹ میں شہری محمد جاوید سمیت دیگر لاپتا افراد کی بازیابی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار اور ان کے وکیل
پیش نہیں ہوئے۔ جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے ریمارکس دیئے کہ لوگ پولیس سے مایوس
ہوچکے ہیں ،اس لیے عدالت نہیں آتے۔ لوگوں نے اب معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔ ہر
تاریخ پر عدالت سے رپورٹ جمع کرنے کے لیے
مہلت مانگی جاتی ہے۔ کہتے ہیں فلاں ادارے کو خط لکھا ہے رپورٹ نہیں آئی۔ ڈپٹی
اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت داخلہ ،دفاع اور داخلہ کے فوکل پرسن کو طلب کیا
جائے۔اس پر جسٹس نعمت اللہ نے ریمارکس دیئے
کہ بلاتے نہیں اب ہم سیکریٹری داخلہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہیں۔ لاپتا افرادکی
بازیابی کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر وفاقی سیکرٹری داخلہ اور دیگر سے رپورٹس طلب
کرلیں۔