سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے ن لیگ کی غلط معاشی پالیسیوں کے سبب آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔

عرفان علی عرفان علی

سابق وزیر خزانہ شوکت ترین  کا کہنا  ہے ن لیگ  کی غلط معاشی پالیسیوں کے سبب آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔

سابق وزیر خزانہ شوکت ترین  کا کہنا  ہے ن لیگ  کی غلط معاشی پالیسیوں کے سبب آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔  پی ٹی آئی حکومت نے  کورونا بحران کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔ تین  سال میں پچپن  لاکھ نوکریوں کے مواقع  پیدا کئے۔عالمی  ریٹنگ ایجنسیز نے پاکستان کی گروتھ پانچ فیصد سے زائد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔

سابق وزیر خزانہ شوکت ترین  کا کہنا  ہے ن لیگ نے پانچ سال میں اڑتالیس ارب  ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ایسا نا ہوتا، تو آئی ایم ایف کے پاس نا جانا پڑتا۔

پریس کانفرنس میں کہا  ہم نے تین سال میں پچپن لاکھ  روزگار کے مواقع پیدا کئے۔ پانچ سال رہتے تو ایک کروڑ   نوکریوں کا ہدف حاصل کرلیتے۔

5اعشاریہ 5 ملین نئی جابز آئی ہیں پاکستان میں ۔۔۔یہ ہی روش رہتی تو ایک کڑوڑ نوکریاں پوری ہوجاتیں

پچھلی حکومتوں میں پیپلزپارٹی نے 1.4اور ن لیگ نے 1.1دی ہے

انہوں نے کہا  ریٹنگ ایجنسیز نے پاکستان کی گروتھ 5فیصد سے زائد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔  اسٹاک   مارکیٹ اور روپے کی قدر میں بہتری نئی حکومت کی وجہ سے نہیں۔

مارچ کی تین تاریخ کو یہ ہی ریٹ 178پر تھا سیاسی صورتحال کے باعث 190پر چلاگیا ایکسپورٹرز نے ڈالرباہر رکھنا شروع کردئے

شوکت ترین کا کہنا تھا ن لیگی دور میں  روپے کو غیرحقیقی طور پر مستحکم رکھا گیا۔ڈالر  کو مارکیٹ بیس کیا،، تو  روپے پر دباو بڑھا اور وہ اصل قیمت پر آیا۔