معروف سماجی
رہنما بلقیس ایدھی کو آہوں اور سسکیوں میں سپردخاک کردیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ میں
سیاسی،سماجی اور عسکری عہدیداروں کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے
والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔مرحومہ کی تدفین
سرکاری اعزاز کے ساتھ میوہ شاہ قبرستان میں کی گئی۔
بین الاقوامی
معروف سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کی اہلیہ اور بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن کی سرپرست محترمہ بلقیس
ایدھی صاحبہ بھی ہزاروں بے آسرا بچوں کو سوگوار چھوڑ گئیں۔۔
صبح سویرے ہی
ان کی رہائشگاہ پر چاہنے والوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
خاتون اول
تہمینہ درانی بھی اہلیخانہ سے تعزیت کو پہنچیں۔
نماز جنازہ نیو
میمن مسجد کے باہر ایم اے جناح روڈ پر ادا کی گئی۔
نماز جنازہ میں
وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ ، آئی جی سندھ مشتاق مہر ، ڈی جی رینجرز سندھ سمیت سیاسی،عسکری
اور سماجی رہنمائوں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔۔
نماز جنازہ
کے بعد پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔
خرم شیر زمان
کا کہنا تھا کہ بلقیس ایدھی کی وفات سے بہت بڑا خلاء پیدا ہوا ہے۔
عقیدت مندوں
کی آہوں اور سسکیوں میں مرحومہ کو وصیت کے مطابق میوہ شاہ قبرستان میں والدہ کے
پہلو میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔