سندھ حکومت کی جانب سے توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے وضع کئے گئے کاروباری اوقات کار کو کراچی میں بوٹ بیسن فوڈ اسٹریٹ ایسوسی ایشن نے ماننے سے انکار کردیاہے۔

عدنان اطہر عدنان اطہر

سندھ حکومت کی جانب سے توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے وضع کئے گئے کاروباری اوقات کار کو کراچی میں  بوٹ بیسن فوڈ اسٹریٹ ایسوسی ایشن نے ماننے سے انکار کردیاہے۔

سندھ حکومت کی جانب سے توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے وضع کئے گئے کاروباری اوقات کار کو کراچی میں  بوٹ بیسن فوڈ اسٹریٹ ایسوسی ایشن نے ماننے سے انکار کردیاہے۔

ریسٹورنٹس مالکان کہتے ہیں کہ محض دو تین گھنٹہ کاروبار کرکے ملازمین کی اجرت بھی نہیں نکال سکتے۔

حکومت فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

جا بجا لگے احتجاجی بینرز اور ان پر درج مطالبات، یہ مناظر کراچی کے پوش علاقے بوٹ بیسن میں واقع اس فوڈ اسٹریٹ کے ہیں جہاں رات گئے تک چٹ پٹے مزیدار کھانوں کےشوقین افرادکی آمد کا تانتا بندھا رہتا ہے۔

مگر حال ہی میں ریسٹورنٹس  بندکرنے کے اوقات کار سے متعلق سامنے آنے والے حکومتی  احکامات نے یہاں کاروبار کرنے والوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

بوٹ بیسن کی اس فوڈ اسٹریٹ پر چھوٹے بڑے درجنوں ریسٹورنٹس قائم ہیں ۔

جن کے مالکان کا کہنا ہے کہ شام کے اوقات میں کھلنے والی اس فوڈ اسٹریٹ کو شب گیارہ بجے بند کرانا کاروبار مکمل بند کرانے کے مترادف ہے۔

اس ہی فوڈ اسٹریٹ پر بطور ویٹر کام کرنے والے افراد بھی شب گیارہ بجے ریسٹورنٹس بند کرنے کے فیصلے پر تحفظات اظہارکررہےہیں۔

 کہتے ہیں کہ محض دو سے تین گھنٹہ یومیہ کام کرنے سے مناسب اجرت نہیں ملے گی، گزارہ مشکل ہو جائےگا۔

محکمہ داخلہ  سندھ  نے توانائی بحران پرقابوپانےکےلیےاٹھارہ جون سے ایک ماہ کےلیےصوبےکےتمام اضلاع میں  بازار ، مارکیٹیں، شاپنگ مالز ، رات نو بجے ، شادی ہال رات ساڑھے دس بجے، ہوٹل ، ریسٹورنٹ  ، کافی شاپ اور کیفے رات گیارہ بجے تک بندکرنےکاحکم نامہ جاری کیاتھا۔

بیکری اور دودھ کی دکانیں، میڈیکل اسٹور ، اسپتال ، پیٹرول  پمپس پرپابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔