سال دوہزاربائیس معاشی اعتبارسےہرگزرتےدن کےساتھ مشکل ترہوتا جارہا ہے ۔

عدنان اطہر عدنان اطہر

سال دوہزاربائیس معاشی اعتبارسےہرگزرتےدن کےساتھ مشکل ترہوتا جارہا ہے ۔

سال دوہزاربائیس معاشی اعتبارسےہرگزرتےدن کےساتھ مشکل ترہوتا جارہا ہے ۔

 ڈالرنےبھی تاریخ کی بلندی کوچھولیا۔

 آج  انٹربینک میں ڈالر مہنگا ہوکر ایک بار پھرنئی بلند ترین سطح دوسو10 روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔

ڈالر کی قیمت میں اضافےکا براہ راست  اثرمقامی مارکیٹ پردیکھا جا ئےگا۔

 درآمدی اشیا کی قیمتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگا۔

بیلنس آف پیمنٹس۔

  بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ۔

درآمدات کی بڑھتی شرح نےڈالرکومضبوط جبکہ روپےکوبےقدرکردیا۔

رواں سال کےآغازسے ہی ڈالرکی قیمت میں استحکام برقرارنہ رہ سکا۔

ایک ماہ میں ڈالرکی قیمت میں 31 روپے46 پیسےتک اضافہ ہوگیا۔

نئی حکومت کے قیام کےبعد سے اب تک ڈالر27روپے 7پیسےتک مہنگا ہوچکا ہے۔

رواں سال مارچ اور اپریل کے مہینے میں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک  زور پکڑ   گئی  جبکہ سیاسی جماعتوں  کی جانب سے الیکشن کا مطالبہ سامنے آیا ،،

 جس کا اثر  سرمایہ کاروں پر پڑا،، اور ڈالر مہنگا ہونا شروع ہوگیا۔ ماہرین کہتےہیں کہ ڈالرکی قیمت کوفوری کنٹرول کرنا ضروری ہے۔

جنوری 22 میں ڈالر175 سے177 روپے  میں فروخت ہوا۔ فروری میں ڈالرکی قیمت معمولی کم ہوکر 174 روپےکی سطح پرآئی لیکن پھرمارچ کے اختتام  پر ڈالر 177 روپے47 پیسے پر رہا۔

 اپریل میں ڈالر  188 روپے سے تجاوزکرگیا۔

مئی میں ڈالرنےڈبل سنچری مکمل کی اب جون میں پہلی بار7 جون کو202 سےتجاوزکرتا کرتا

نئی تاریخی بلندی 210روپے کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔